سیلاب زدگان: کیمپ میں ولادت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گھر میں خوشی بھی ہے اور تکلیف بھی: طالب حسین

ضلع خیرپور کے گاؤں کرم خان لاشاری میں ایک پھول کھلا ہے لیکن مچھروں سے ڈھکے سیلابی کیچڑ میں۔ اڑتیس سالہ طالب حسین کے گھر میں یہ پہلے بچہ کا جنم ہے۔

’بس آج صبح ہی اللہ نے بیٹی دی ہے۔ حال آپ کے سامنے ہے، روڈ پر بیٹھے ہیں۔ گاؤں تو سارا ڈوب گیا۔ گھر میں خوشی بھی ہے اور تکلیف بھی۔‘

طالب حسین سے ملاقات ہفتے کو ضلع خیرپور کی تحصیلوں ٹھری میر واہ اور فیض گنج کے سنگم پر ہوئی جہاں پچاس سے زیادہ سیلاب زدہ خاندان خیموں میں مقیم ہیں۔

طالب گاؤں کے دوسرے لوگوں کی طرح کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تیس اگست سے بارشوں کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں سب کچھ بہہ گیا۔ کچا گھر، اس میں موجود گندم کا ذخیرہ اور کپاس اور گنے کی فصل بھی گئی جو کٹائی کے لیے تیار تھی۔

’بس ہم نے خود کو اور مویشیوں کو بچایا ہے لیکن یہاں آپ دیکھ رہے ہیں اتنے مچھر ہیں کہ ہم سب ہی بیمار پڑ رہے ہیں۔‘

طالب حسین نے بتایا کہ ان کی بیوی کو جمعہ کی رات سے شدید درد تھا اور جب وہ برداشت سے باہر ہوا تو صبح تین بجے کے قریب انہیں قریبی دیہی مرکز صحت لے گئے جہاں ان کی بیٹی کی ولادت ہوئی۔

’بس شکر ہے اللہ کا ایک بکری بیچ کر دوائی کروائی ہے اور تو کچھ بھی نہیں تھا۔ کچھ بھی کریں ڈاکٹر کو پیسے دینے تو پڑتے ہیں نا۔ بس ڈاکٹر نے یہ رعایت دی کہ کل نہیں پرسوں دے جانا باقی پیسے۔‘

ان کے بقول ’اب ڈاکٹر بولتی ہے کہ بچے کے دن پورے نہیں ہیں اس لیے اسکا وزن کراؤ اور ڈرپ لگواؤ۔ بیوی کی بھی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اسے پیٹ میں درد ہے، بخار ہے۔‘

طالب کے ساتھ ان کے خیمے میں پہنچا تو ایک چارپائی پر ان کی اہلیہ ریشماں اور نوزائیدہ بچی آرام کررہے تھے اور ان کی ساس شمع دونوں پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہی تھیں۔

ریشماں سے بات کرنا چاہی تو وہ تکلیف کی وجہ سے بات نہیں کرپارہی تھی۔

میرے سوال کے جواب میں بس وہ نحیف لہجے میں صرف اتنا ہی کہہ پائی ’خوشی بھی ہے، پریشانی بھی ہے۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اتنی مشکل میں پہلا بچہ ہوگا۔‘

قریب ہی بیٹھی ریشماں کی ماں شمع نے کمزور سی بچی کو گود میں لیتے ہوئے کہا ’مجبوری تھی۔ ساری رات گرمی تھی، مچھر تھے، اس حالت میں ہم اسے اسپتال لے گئے تھے۔ ہم تو شکر کرتے ہیں اللہ کا یہ بچہ بھی پیدا تو ہوا۔ اب یہ دکھ تھا یا کچھ تھا یہ تو ہمارا مالک اللہ ہی دور کرے گا لیکن اگر پانی نہیں ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔‘

طالب کی شادی کو دو سال ہوئے ہیں۔ باپ بننے کے بعد ان کی سب سے بڑی فکر بچی اور بیوی کی صحت نہیں بلکہ زمینوں پر کھڑا پانی ہے۔

’ہماری سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ حکومت ہماری زمینوں سے اس پانی کو نکالے تاکہ ہم اپنے گھروں کو واپس جائیں اور زمینیں آباد کریں۔ ہماری جو فصلیں تھیں وہ تو تباہ ہوگئیں۔ اب جانور بھی بیماری سے مرر ہے ہیں، مچھروں کی وجہ سے ہم رات کو نہ سو سکتے ہیں نہ دن میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اگر یہ پانی نہ نکلا تو ہم اگلی فصل بھی نہیں بوسکیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب ڈاکٹر بولتی ہے کہ بچے کا وزن کراؤ اور ڈرپ لگواؤ: طالب حسین

انہوں نے بتایا کہ انہیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے خیمے اور چند دن کا راشن ملا تھا اسکے بعد سے کوئی آیا اور نہ ہی کوئی مدد ملی۔

’اب حالت یہ ہے کہ ایک دن کھاتے ہیں تو دو دن بیٹھے رہتے ہیں۔ صبح کھاتے ہیں تو شام کو بیٹھے ہیں۔‘

کرم خان لاشاری گاؤں کے سیلاب زدگان کی خیمہ بستی کے ہر باسی کی زبان پر یہی التجا تھی کہ انہیں مچھروں سے نجات دلائی جائے اور ان کی زمینوں سے پانی نکالا جائے۔

علاقے میں متاثرین کے لیے قائم سرکاری طبی کیمپ پر موجود ڈاکٹر مشتاق احمد موجائی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر متاثرین کو جلدی امراض لاحق ہورہے ہیں اور ملیریا کے بھی کچھ کیسز آئے ہیں لیکن ان کے بقول اب تک کسی مرض نے وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے۔

سیلاب زدہ حاملہ خواتین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں قریبی مراکز صحت میں بھیجا جارہا ہے لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ کم خوراکی، مچھروں اور گندگی کی وجہ سے متاثرہ لوگوں خاص طور پر حاملہ عورتوں اور بچوں کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔

اسی بارے میں