سانگھڑ: حروں کا قلعہ زیر آب

فائل فوٹو، متاثرین سیلاب کا مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کی ماضی میں کئی شناخت رہی ہیں مگر موجودہ وقت تو ایک ہی شناخت نظر آتی ہے کہ سیلاب اور بارش سے متاثر لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے یہاں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی کوششیں محدود ہیں اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں متاثرین میں اشتعال بڑھ رہا ہے۔

اس سے پہلے یہ علاقہ جام کانبھو خان کی سخاوت کی وجہ سے مشہور تھا۔ جن کے فرزند جام صادق بعد میں سندھ کے وزیراعلیٰ بنے، اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہاں برہمن آباد شہر کے آثار موجود ہیں، جو منصورہ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، جو عرب دور میں سندھ کا دارالحکومت رہا ہے۔

ضلع سانگھڑ کی آبادی انیس لاکھ بتائی جاتی ہے، جن میں بیس فیصد ہندو ہیں، یہاں کے لوگوں کو بارش کے ساتھ سیم نالے کے پانی نے بھی شدید متاثر کیا۔

لوگوں نے شکایت کی ہے کہ بارش کے بعد نوابشاہ سے پانی فوری نکالنے کے باعث سیم نالے میں پانی گنجائش سے زیادہ ہوگیا اور نتیجے میں اس کو شگاف پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سانگھڑ جیل ایک جزیرے کا منظر پیش کرتی ہے

بعض لوگ سانگھڑ کے زیر آب آنے کے پس پردہ مقامی بااثر سیاست دانوں کے کردار کا ذکر کرتے ہیں تو بعض لوگوں اسے سرکاری اہلکاروں کی دانستہ غفلت سمجھتے ہیں۔

ماہی گیر خاتون سنگھار کے نام سے منسوب گاؤں سے شہر تک کا سفر طے کرنے والے سانگھڑ کے کئی علاقوں میں تین سے چار فٹ تک پانی موجود ہے۔ ان علاقوں میں لوگ لکڑی کے تختوں پر بیٹھ کر اپنے مکانات کے چکر لگاتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ دو گھروں سے چوری ہو چکی ہے۔

سانگھڑ میں بڑی تعداد میں جننگ فیکٹریاں ہیں جس کی وجہ یہاں کپاس کی پیداوار زیادہ ہونا ہے، بارشوں کے باعث ہزاروں ایکڑ پر موجود کپاس کی فصل زیر آب آگئی ہے۔

بارش کے پانی میں مچھروں کی تیزی کے ساتھ افزائش نسل ہو رہی ہے، جس نے کیمپوں میں زندگی گزارنا مشکل کر دی ہے مگر جو مکان بچ گئے ہیں وہاں بھی لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہیں۔

سانگھڑ تین اطراف سے دوسرے اضلاع سے منسلک ہے، نوابشاہ اور حیدرآباد سے اس کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ واحد میر پورخاص کا راستہ ہے اور یہاں سے سانگھڑ پہنچا جا سکتا ہے۔ راستے کٹنے کے باعث یہاں پیٹرول کی رسد بھی معطل ہوگئی ہے۔

میر پورخاص سے سانگھڑ کے راستے ہر جگہ مردار جانور سڑکوں اور پانی میں ڈوب ہوئے کھیتوں میں نظر آئے ہیں، ان سے تھوڑے فاصلے پر لوگ نے سڑکوں پر پناہ لے رکھی اور اس صورتحال میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شہر میں واقع سول ہپستال اس وقت مکمل طور پر زیر آب ہے، جس کے باعث لوگ علاج معالجے کی سہولت سے محروم ہیں ، برطانیہ کے مسلمانوں کی تنظیم مسلم ایڈ کی جانب سے سانگھڑ میں بیس بستروں پر مشتمل ہپستال قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کو صاف کرنے کا پلانٹ لگایا جا رہا ہے جس کی مدد سے روزانہ ایک لاکھ لٹر صاف پانی متاثرین کو فراہم کیا جائے گا۔

ایک اور تنظیم مسلم ایڈ نے دو کیمپوں کی ذمہ داری اٹھائی ہے جہاں ڈھائی سو سے زائد خاندانوں کو دو وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

برطانوی دور حکومت میں حر جماعت کے روحانی پیشوا پیر صبغت اللہ راشدی نے انگریزوں کی مخالفت کی، جس دوران پیر پگارہ کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں انہیں پھانسی دی گی، جس کے بعد حروں نے انگریزوں کے ساتھ گوریلا جنگ لڑی، ان کے مریدوں کی اکثریت سانگھڑ میں آباد تھی جس کے باعث جنگ کا مرکز سانگھڑ رہا، آج حروں کا قلعہ زیر آْ چکا ہے۔

اسی بارے میں