مویشیوں کے لیے مچھردانیوں کی مانگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مچھروں کی بہتات سے انسانوں کے علاوہ جانوروں کے لیے بھی مچھردانیاں بنوانا پڑ رہی ہیں

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے آبائی شہر نواب شاہ کے بازاروں میں کہیں اور کاروبار ہو رہا ہو یا نہیں لیکن ایک جگہ ایسی ہے جہاں ان دنوں نہ دکانداروں کو فرصت ہے اور نہ ہی گاہکوں کی کمی اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی وجہ حالیہ تباہ کن سیلاب اور بارشیں بنی ہیں۔

شہر کی کپڑا مارکیٹ میں داخل ہوں تو کم و بیش ہر دکان کے باہر آپ کو جالی نما کپڑے کے بڑے بڑے تھان نظر آتے ہیں جن سے ان دنوں مویشیوں کے لیے بڑی بڑی مچھر دانیاں تیار کی جارہی ہیں۔

ایک دکاندار عبدالقادر نے بتایا کہ ’عید کے بعد کپڑے کا ایک میٹر بھی نہیں بک رہا ہے۔ نہ مردانہ نہ زنانہ ۔ اب صرف یہ مچھر کے آئٹم جو بھی ہیں۔ وہی بک رہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں مچھروں کی بہتات ہے جن کے کاٹنے سے بڑی تعداد میں مویشی بیمار ہو کر مر رہے ہیں اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو بچانے کا حل یہ نکالا ہے کہ وہ ان کے لیے مچھر دانیاں بنوارہے ہیں۔

’میری عمر 58 برس ہے، کبھی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا کہ اتنی مچھر دانیاں بکی ہوں اور یہ آئٹم اتنا بک رہا ہے کہ وہ کارخانے دار جو اپنی فیکٹریاں بند کردیتے تھے، وہ اپنی لیبر کو ڈبل پیسے دے کر کام کرا رہے ہیں۔ مطلب اتنی ڈیمانڈ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پچھلے دس دنوں کے اندر میں وہ کم از کم چار ساڑھے چار لاکھ روپے کا مچھر دانی کا کپڑا بیچ چکے ہیں۔ ’یہی حالت دوسری دکانوں پر بھی ہے۔ وہاں پر بھی یہی آئٹم بک رہا ہے، کپڑا نہیں بک رہا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مچھردانیاں بنانے کے کپڑے کی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے

عبدالقادر نے بتایا کہ طلب میں اضافے کی وجہ سے مچھر دانیوں کی قیمت بھی دگنی ہوگئی ہے۔

’جو مچھر دانی سو روپے میں آتی تھی اب وہ دو سو روپے میں ہول سیل میں مل رہی ہے اور مچھر دانی کا وہ کپڑا جو پچاس روپے میٹر ملتا تھا وہ اب سو روپے میٹر میں آرہا ہے۔‘

’کلاتھ مارکیٹ میں کم سے کم بارہ تیرہ سو دکانیں ہیں اور ڈیلی اوسط کم سے کم پچاس ساٹھ ہزار روپے کا کاروبار ہورہا ہے تو آپ حساب لگالیں کہ پینتیس سے چالیس لاکھ روپے کا روزانہ کا کام ہورہا ہے کیونکہ اس میں کیا ہے کہ صرف نواب شاہ ہی نہیں، سانگھڑ، نوشہروفیروز اور خیرپور کے لوگ بھی مچھر دانی خریدنے یہیں آرہے ہیں۔‘

غلام علی، نواب شاہ سے بیس کلومیٹر دور واقع گاؤں شاہ محمد خاص خیلی سے مچھر دانی خریدنے کلاتھ مارکیٹ آئے تھے۔

ان سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مچھروں کے کاٹنے سے ان کی تین بھینسیں مرچکی ہیں اور اب وہ باقی مویشیوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

’ہمارے گاؤں میں پانی بہت زیادہ کھڑا ہوا ہے اور دوسرا مال (مویشی) جو ہے ختم ہورہا ہے۔ گھاس (چارہ) نہیں ہے۔ پانی تین تین چار چار فٹ کھڑا ہے۔اس میں بےتہاشہ مچھر اور بدبو ہے۔ ایک تو جانور بھوک سے مررہے ہیں اور دوسرا مچھروں سے مررہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان مچھر دانیوں کا فائدہ بھی ہورہا ہے اور جو لوگ استعمال کررہے ہیں ان کے جانور بڑی حد تک محفوظ ہیں۔

’میرپورخاص سے دوست نے فون کیا اس نے یہ طریقہ بتایا۔ وہ بھی مال کو بچانے کے لیے مچھر دانی استعمال کررہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بازاورں میں صرف یہی کپڑا بک رہا ہے

انہوں نے بتایا کہ اب تک ان کے پاس کیمپ ہے نہ خیمہ ہے۔ گھر کے آگے جو خالی میدان ہے اس پر وہ اور دوسرے گاؤں والے کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور حکومت کی طرف سے اب تک کوئی مدد نہیں ملی ہے۔

’فصل میں پانی تین چار فٹ کھڑا ہوا ہے۔ ہمارا جو سارا سسٹم چل رہا ہے زراعت پر چل رہا ہے۔ اور اس میں کپاس بالکل تیار تھی، سیٹھ کہہ رہے ہیں کہ ابھی کیا دیں آپ کو، ہمارے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ نہیں، یہ سارا ڈوبا ہوا ہے۔‘

دانا علی سے ملاقات ہوئی جو نوابشاہ سے 60 کلومیٹر دور واقع ہیڈ جمڑاؤ کے علاقے سے آئے تھے۔

’ہمیں زندگی میں کبھی مچھر دانی کی اتنی ضرورت نہیں پڑی۔ کبھی اتنا مچھر دیکھا ہی نہیں ہے۔ ابھی تو اتنا مچھر ہے کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا اور اتنا زہریلا مچھر ہے کہ ان کے کاٹنے سے مال مررہا ہے۔‘

’پہلے تو ہمارے فصل ڈوبے ہوئے تھے گھر ڈوبے ہوئے تھے ہم اسی پریشانی میں تھے جب ہم نے وہاں اپنے لیے رہنے کا بندوبست کیا اور اپنے مال کو رکھنے کا بندوبست کیا، اب جب وہ مررہے ہیں، تو پیسے کہیں نہ کہیں سے مانگ تانگ کر مچھر دانی خریدنے آئے ہیں تاکہ مال تو بچے۔‘

بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں مویشیوں کے لیے مچھردانی کی مانگ میں اضافے سے درزیوں کی بھی نکل پڑی ہے۔

محمد انور کی کلاتھ مارکیٹ میں ہی درزی کی دکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے دو ہفتوں سے وہ قمیض شلوار کے بجائے مچھر دانیاں ہی سی رہے ہیں۔

’آج کال سارا دن بس مچھر دانی سلتی ہیں۔ روزانہ تین چار سی لیتے ہیں۔ کافی بڑی ہوتی ہیں نا اس لیے اس میں ٹائم لگتا ہے۔ کوئی ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو سو میٹر کی مچھر دانیاں سینا پڑتی ہیں۔‘

محمد انور کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی اس طریقے سے کبھی یہ چیز نہیں دیکھی، کبھی مچھر دانی سینے کا سوچا بھی نہیں تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ مچھر دانی سینے کا وہ چار سو سے آٹھ سو روپے تک معاوضہ لیتے ہیں۔ ’کوئی سو میٹر کی ہوتی ہے کوئی پچاس میٹر کی اسی حساب سے ہم پیسے لیتے ہیں۔‘

اسی بارے میں