متاثرینِ سیلاب کی تعداد اسّی لاکھ سے تجاوز کرگئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے بچوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبۂ سندھ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد اسّی لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو باون ہوچکی ہے جس میں ترانوے خواتین اور تراسی بچے شامل ہیں۔

اُدھر صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یہ قدرتی آفت ملک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ کراچی میں تاجر برادری سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے بلاول ہاؤس میں ایک مانیٹرنگ روم بنا دیا گیا ہے اور وہ ذاتی طور سے امدادی کاموں کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبۂ سندھ میں ایسے علاقے کے لوگوں کی گندم کے زیادہ بیچ دیے جائیں گے جو بارشوں سے متاثر نہیں ہوئے ہیں تاکہ ان علاقوں میں گندم کی پیداوار کو بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایسے اقدامات کریں گے کہ ہمیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم درآمد نہ کرنی پڑے۔‘

بچے شدید متاثر

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اہلکار عبدالسمیع مالک نے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں مہوش حسین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی اس طرح کی کوئی آفت آتی ہے تو اس میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ایسے حالات میں بچے اپنا خیال خود نہیں رکھ سکتے۔

Image caption اس قسم کی آفت میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں: یونیسیف کے اہلکار

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ سندھ کے کئی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں اور کئی جگہوں پر سیوریج کا پانی مل گیا ہے جبکہ کھڑے ہوئے پانی میں مچھر بھی بہت ہوتے ہیں اور اس سے بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بچوں کو اگر پیاس لگے تو وہ کہیں سے بھی پانی پی لیتے ہیں جس کے باعث ان میں اسہال اور ہیضہ کے خدشات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں جبکہ مچھروں کی وجہ سے ملیریا ہونے کا بہت خطرہ ہوتا ہے۔

عبدالسمیع مالک نے سیلاب زدہ علاقوں کا حال ہی میں دورہ کیا ہے۔ ان کے بقول کئی بچے اور لوگ بیمار ہیں اور انہیں دواؤوں کی ضرورت ہے جبکہ جو لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں انہیں سائبان چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اپیل کے بعد سے اقوامِ متحدہ کے پاکستان میں تمام اداروں نے فوری امدادی کا کام شروع کردیا ہے۔ ان کے بقول اس قسم کی آفات میں شروع کے دنوں میں جان بچانے پر ساری توجہ مرکوز ہوتی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ جس حد تک ہو سکے انسانی جانیں بچائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیسیف کا ادارہ بچوں کے لیے کام کرتا ہے اور ’ہماری پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم صاف پانی مہیا کریں تاکہ بچے اور بڑے صاف پانی استعمال کر سکیں۔ ایسی صورتحال میں بچوں میں ویکسینیشن بھی ضروری ہوتی ہے اور ہم نے فی الحال سیلاب زدگان کے بچوں کے لیے پولیو اور خسرہ کی ویکسینیشن کا آغاز کردیا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کی عالمی اپیل

اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب کے متاثرین کی مدد کے لیے تقریباًچھتیس کروڑ ڈالر غیر ملکی امداد کی اپیل کی ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر تیمو پکالا نے کہا کہ اب تک کے اندازے کے مطابق سندھ میں ہی پچاس لاکھ سے زیادہ افراد متاثرہ ہوئے ہیں اور متاثرین کی تعداد ستر لاکھ سے زیادھ بھی ہوسکتی ہے۔

تیمو پکالانےکہا کہ متاثرہ علاقوں میں رہائش ایک بڑا مسئلہ ہے لہٰذا عالمی برادری فوری طور پر ڈیڑھ لاکھ خیمے بھی مہیّا کرے۔

ادھر سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی بعض امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر احتجاج کے باعث متاثرین تک رسد شدید متاثر ہو رہی ہے۔

دو غیر ملکی امدادی اداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ملازمین کو مرکزی دفتروں سے ایسی صورتحال میں سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جائزہ رپورٹ تیار

اقوام متحدہ اور حکومت نے سندھ کے بارش اور سیلاب سے متاثرہ سولہ اضلاع کی ابتدائی جائزہ رپورٹ تیار کرلی ہے۔

Image caption ایسی صورتحال میں بچے اپنا خیال خود نہیں رکھ سکتے: عبدالسمیع مالک

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اوچا کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارش سے 54 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، جن میں انچاس فیصد خواتین ہیں۔

اوچا کی رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال کی وجہ سے دس لاکھ خاندان متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ فیصد کی سربراہ خواتین اور چار فیصد کے سربراہ معذور افراد ہیں۔

فوری ضروریات کا تعین کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 59 مقامات کے جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میرپورخاص اور تھرپارکر میں فوری شیلٹر کی ضرورت ہے۔

متاثرینِ سیلاب کا احتجاج

متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی عدم دستیابی پر لوگوں میں اشتعال بڑھ رہا ہے۔

متاثرین سیلاب کا کہنا ہے کہ وہ بیس روز سے کھلے آسمان کے نیچے بیھٹے ہوئے ہیں اور اب تک کسی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے نے ان کی مدد نہیں کی ہے جبکہ ان کا سارا سامان بارشوں کی نذر ہو گیا ہے۔

سانگھڑ کے شہر جھول میں رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالستار راجپوت کی فیکٹری کے باہر فائرنگ میں ایک بارہ سالہ بچہ غلام حسین ہلاک ہو گیا ہے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے امدادی سامان یہاں موجود تھا مگر تقسیم نہیں کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب میر پور خاص کے شہر نو کوٹ میں سامان کی تقسیم کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور چھینا جھپٹی کے دوران ایک بزرگ شخص پیروں تلے آ کر ہلاک ہو گیا۔

اسی بارے میں