صرف ایک پاؤ دودھ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ویسے تو ایک پاؤ دودھ کی قیمت پندرہ بیس روپے ہوگی، مگر مسماۃ سمی پتافی کے لیے یہ قیمت بھی کہیں زیادہ ہے کینوکہ یہ ان کی دسترس میں نہیں ہے۔

وہ جھڈو شہر سے تعلق رکھتی ہیں، جو اس وقت زیر آب آچکا ہے۔

مسماۃ سمی کی تین سالہ بیٹی مہراں اتوار کو ڈائریا کی وجہ سے فوت ہوگئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں جو بھی پانی مل رہا تھا، انہوں نے استعمال کیا کبھی کھانا ملتا تھا تو کبھی نہیں، جس وجہ سے ان کی بیٹی کمزور ہوگئی۔

مسماۃ سمی حیدرآباد کے نیوی سبزی منڈی کے کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود ہیں، جہاں ایک ڈاکٹر بھی تعینات ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر کے پاس مہراں کو لیکر گئیں تھیں۔

ڈاکٹر نے کہا کچھ نہیں صرف دوا دیکر روانہ کردیا، بعد میں بچی کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ گردن نہیں اٹھا سک رہی تھی، آنکھوں میں حلقے پڑ گئے وہ اسے سول ہسپتال لے گئے جہاں وہ فوت ہوگئی۔

مسماۃ سمی کی تکلیف یہاں ختم نہیں ہوتی، ان کا ایک سالہ بیٹا نثار اور بیٹی بھی بیمار ہیں۔ نثار انتہائی کمزور اور نڈھال نظر آتا ہے، ہماری موجودگی میں وہ نثار کو ڈاکٹر کے پاس لیکر گئیں۔

ڈاکٹر چندن نے تصدیق کی کہ بچہ خوراک کی کمی کا شکار ہے، انہوں نے بچے کو دودھ اور روٹی دینے کی تجویز دی، میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ان کے پاس تو پیسے نہیں ہیں، وہ کہاں سے یہ لے سکتے ہیں؟ تو ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ صرف دوا دے سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ڈاکٹر چندن نے مسماۃ سمی کو یہ بھی مشورہ دیا کہ جو سالن ملتا ہے اس کی بوٹی بچے کو کھلائی جائے، سمی نے انہیں بتایا کہ وہ یہ کر چکی ہیں مگر اس سے بچے کو الٹی اور دست لگ جاتے ہیں۔ ہم نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ اگر بچے کو یہ چیزیں نہ مل سکیں تو کیا ہوگا جس پر ان کا کہنا تھا کہ پھر زیادہ دن نہیں رہے سکے گا۔

مسماۃ سمی نے بتایا کہ وہ گاؤں میں بچے کو بکری کا دودھ دیتی تھیں مگر بارش اور سیلاب کے بعد وہ صرف چند کپڑے ساتھ لیکر نکل سکے تھے اب ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہا بچے کو کہاں سے دودھ لیکر دیں۔

معصوم نثار کا والد بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہے، ان کا گزر بسر مزدوری پر ہوتا تھا، جو اب دستیاب نہیں ہے۔

بچوں کے عالمی ادارے یونسیف کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پچیس لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ کیمپوں میں ہیں تو کچھ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں۔

حیدرآباد نیو سبزی منڈی میں تین ہزار لوگ موجود ہیں، ڈاکٹر چندن روزانہ دو سو کے قریب بچوں کا معائنہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ فیصد بچوں میں خوراک کی واضح کمی ہے۔

اس کیمپ میں حکومت کی جانب سے صرف ڈاکٹر فراہم کیا گیا جبکہ باقی کوئی انتظام نظر نہیں آتا۔ ایک فلاحی ادارے کی جانب سے وہاں لوگوں کو کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ ادارے کے اہلکار سہیل راجپوت نے بتایا کہ وہ متاثرین کو چکن بریانی اور قورمہ فراہم کر رہے ہیں، دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان متاثرین میں سے بعض نے بتایا کہ انہیں یہ کھانا ہضم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے پیٹ خراب رہتا ہے۔

اس اہلکار سے ہم نے پوچھا کہ یہ کھانا تو بڑوں کے لیے ہے۔ کیا بچوں کو دودھ کی فراہمی وغیرہ کی جارہی ہے، تو انہوں نے بتایا کہ وہ اگلے روز سے یہ شروع کریں گے، یہ اتوار کے روز کی شام تھی۔

پیر کی دوپہر کو ہم دوبارہ اس کیمپ میں پہنچے، مسماۃ سمی نے بتایا کہ رات کو انہیں ایک کلو دودھ دیا گیا تھا جو انہوں نے تمام بچوں کو پلایا۔ آج معصوم نثار کپڑے کی مدد سے بنائے ہوئے پالنے میں سو رہا تھا۔ اس کی پرسکون نیند دیکھ کر تھوڑی دیر کے بعد مسماۃ سمی بھی سوگئی۔ ان کے اس اطمینان کی وجہ شاید دودھ کی یہ فراہمی ہے، جو جانے کتنے روز جاری رہے گی۔

اسی بارے میں