’چین پاکستانی کی سزائے موت تبدیل کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اکیس سمتبر کو چین کی عدالت نے زاہد حسین شاہ کو سزائے موت سنا دی۔

حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے چین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں سزائے موت پانے والے پاکستانی شہری زاہد حسین شاہ کی سزا تبدیل کرے۔

ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں چینی حکومت سے رابطہ کریں اور زاہد حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے کوششیں کریں۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے حفیظ چاچڑ نے بتایا کہ زاہد حسین شاہ کو چار ستمبر دو ہزار آٹھ کو چار پاکستانی اور تین فلپائنی شہریوں سمیت شنگھائی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چین میں منشیات کی سمگلنگ کی تھی۔

چینی حکام کے مطابق جن سات افراد کے قبضے سے منشیات برآمد ہوئی ہے وہ زاہد حسین شاہ نے انہیں دی تھی اور وہی چین لائی گئی تھی۔

مقامی عدالت نے انیس مارچ دو ہزار دس کو زاہد حسین شاہ کو سزائے موت سنائی تھی اور بعد میں ان کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اکیس ستمبر دو ہزار گیارہ کو زاہد حسین شاہ کو پھانسی دینے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

ایشین ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک پاکستانی شہری کی زندگی بچانا حکومتِ پاکستان کا اولین فرض ہے جو اپنے وکیل کے غلط مشورے اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کی نظراندازی کا شکار ہوا ہے۔

چین میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے زاہد حسین شاہ کے معاملے کو نظرانداز کیے جانے پر دفترِ خارجہ نے کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

زاہد حسین شاہ کی ایک رشتے دار تسنیم فاطمہ نے بیجنگ سے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ زاہد حسین شاہ بلکل بے گناہ ہیں اور جن افراد کے قبضے سے منشیات برآمد ہوئی تھی انہوں نے زبردستی ان کو اس معاملے میں پھنسایا ہے۔

انہوں چینی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زاہد حسین کی سزا کو منسوخ کر کے ان کا پھر سے مقدمہ چلانے کی اجازت دی جائے اور انہیں تین یا چھ ماہ کا وقت دیں۔

انہوں نے بتایا کہ زاہد حسین شاہ کے والد اور بھائی اتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں اس لیے وہ معاملے کو صحیح طور پر سنبھال نہیں سکے اور پاکستانی سفارتخانے نے بھی اس بابت کوئی مدد نہیں کی۔

تسنیم فاطمہ نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اپیل کی ہے کہ وہ چینی حکام سے زاہد حسین شاہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔

انہوں نے بتایا کہ فلپائن کی حکومت کی درخواست پر فروری دو ہزار گیارہ میں چینی حکومت نے تین فلپائنی شہریوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔