اصل وارث کون

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسماعیل گل جی اور ان کی اہلیہ زرین گل جی کو مبینہ طور پر ان کے گھر پر موجود ملازم جوڑے نے قتل کر دیا تھا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سی ڈی اے کے کا قانونی ونگ یہ فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کے نامور آرٹسٹ اور مصور اسماعیل گل جی مرحوم کے دو بیٹے ہیں یا ایک ۔

سی ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ وقار علی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس ایک شخص کی ایسی درخواست آئی جس میں تحریر تھا کہ وہ گل جی کے بیٹے اور ان کی جائیداد کے قانونی وارث ہیں۔

وقار خان کے مطابق دستاویزات نادرا سے تصدیق شدہ اصل ہیں جن کے مطابق دعویٰ کرنے والے شخص کا نام بھی امین اسماعیل گل جی ہے اور وہ مرحوم اسماعیل گل جی کے اسلام آباد میں واقع اٹھارہ کنال کے ایک ایگرو فارم کا قانونی وارث ہے۔

کراچی کے رہائشی گل جی کے پہلے بیٹے امین گل جی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مختصراً صرف یہ کہا ’میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ مجھے میرا ورثہ واپس مل جائے۔‘

تاہم ان کے وکیل ارشد طیبالی نے اس دعوے کے ٹھوس ہونے کے حوالے سے کہا ’میرے حساب سے یہ بالکل غیر سنجیدہ سی بات ہے کہ ایک شخص سامنے ہی نہیں آیا، نہ کوئی دستاویزات پیش کی گئیں، ایسے میں یہی لگتا ہے کہ یہ ایک سازش ہے قبضہ مافیا کی جو اس زمین کو ہتھیانا چاہتے ہیں۔‘

امین گل جی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اب جب تمام جائیداد امین گل جی اور ان کی بہن زرمین گل جی کے نام منتقل ہونے جا رہی تھی تو اچانک یہ قضیہ شروع ہوا ہے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قانونی کارروائی مکمل کریں گے۔

مرحوم اسماعیل گل جی کی اسلام آباد میں جائیداد کے بارے میں ارشد طیبالی کا کہنا تھا کہ ایک پلاٹ چک شہزاد کے علاقے میں اور ایک گھر اور ہے جبکہ نتھیا گلی میں بھی ان کا ایک گھر ہے۔

ارشد طیبالی کا کہنا تھا کہ اسماعیل گل جی اور ان کی اہلیہ کے مبینہ قتل کے بعد جائیداد کی کچھ دستاویزات ایسی ہیں جو غائب ہوئیں تاہم انہوں نے اس کی تفصیل میں جانے سے گریز کیا ۔

وقار علی خان اور سی ڈی اے کے تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو وہ بہت مطمئن تھے اور ان کو تمام دستاویزات اور تصاویر دکھائی گئیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امین گل جی ہی اسماعیل گل جی کے اکلوتے بیٹے ہیں اور پوری دنیا یہ بات جانتی ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اب حکام کو موقع مل گیا ہے اور اب وہ تنگ کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ارشد طیبالی کا کہنا تھا کہ اس شخص کے نام، عمر، ماں باپ ، کسی قسم کی معلومات نہیں ملیں، اگر وہ ہے تو سامنے آئے۔

سی ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ وقار علی خان کا کہنا ہے کہ چونکہ مرحوم گل جی اوران کا بیٹا نامور شخصیات ہیں اس لیے وہ اس شخص کی درخواست پر ذاتی طور پر شک میں مبتلا ضرور ہوئے لہذا انہوں نے نادرا سے ریکارڈ چیک کروایا جس کے مطابق درخواست کے ساتھ پیش کیے جانے والے دستاویزات اصل تھے تو بات میرے بس میں نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنا البتہ ہے کہ ایک جائیداد پر دو افراد کا متنازعہ دعویٰ ہے اور دونوں پارٹیز کے پاس قانونی کاغذات موجود ہیں تو اس صورت میں فیصلہ عدالتِ عظمیٰ کرے گی کہ کون اصل ہے اور کون نقل۔

وقار علی خان کا کہنا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ سی ڈی اے میں جائیداد منتقل کرنے کا طریقہ کار بہت مشکل ہے لیکن اس کا فائدہ یہی ہے کہ فراڈ روکا جائے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ قبضہ مافیا اگرچہ غلط کام کر رہا ہے تاہم وہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا ’ہمیں تو نہیں پتہ ، دونوں پارٹیز قانونی وارث ہو سکتی ہیں ۔ لوگ دو شادیاں کر لیتے ہیں ۔ بہت سے معاملات نکل آتے ہیں۔ اس لیے اب سی ڈی اے کا قانونی ونگ کاغذات کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر کے فیصلہ کرے گا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔‘

واضح رہے کہ سن دو ہزار سات میں اسماعیل گل جی اور ان کی اہلیہ زرین گل جی کو مبینہ طور پر ان کے گھر پر موجود ملازم جوڑے نے قتل کر دیا تھا اور اس وقت انہوں نے ورثاء میں انہوں نے ایک بیٹا امین گل جی اور ایک بیٹی زرمین گل جی چھوڑے۔

اسی بارے میں