کیا طالبان کی واپسی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عسکریت پسند اپنی واپسی یا ’کم بیک‘ کے اشارے دے رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے اضلاع پشاور اور مالاکنڈ ڈویژن میں عسکری تنظیموں کی طرف سے یکے بعد دیگرے بم اور خودکش حملوں اور میڈیا سے مسلسل رابطے بڑھانے سے ایک مرتبہ پھر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے عسکریت پسند اپنی واپسی یا ’کم بیک‘ کے نہ صرف اشارے دے رہے ہیں بلکہ آپس کے اختلافات ختم کر کے پھر سے منظم ہونے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں ماسوائے وزیرستان کے کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں جس کے بارے میں کوئی حتمی طور پر یہ کہہ سکے کہ وہاں طالبان قابض ہیں یا ان کے اثر رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔

فاٹا اور خیبر پختون خوا کے زیادہ تر علاقوں میں عسکریت پسندوں کی طاقت اور اثر رسوخ کمزور پڑ چکا ہے جس کی بظاہر وجہ ان کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں یا ان کے آپس میں اختلافات بتائے جاتے ہیں۔

لیکن اب خیبر پختون خوا کے بعض اضلاع میں پے درپے حالیہ دھماکوں اور حملوں سے عسکریت پسند پھر سے ایک ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیسا وہ دوبار منظم ہوکر حکومت اور سکیورٹی فورسز کے لیے ایک چیلنج بنتے جارہے ہیں۔

پشاور شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو دھماکے ہوچکے ہیں جبکہ مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع دیر اپر، دیر لوئر اور چترال میں صورتحال اس سے مختلف ہے جہاں نہ صرف طالبان مخالف لشکر کے افراد نشانہ بنے ہیں بلکہ سرحد پار سے بھی متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔

دو سال پہلے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں ہونے والی مؤثر فوجی کاروائیوں کے باعث زیادہ تر علاقوں میں عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی تھی۔ اس کاروائی کے باعث عسکریت پسند یا تو مارے گئے یا پھر بھاگنے پر مجبور ہوئے جبکہ ان میں کئی اہم کمانڈروں کو گرفتار بھی کیا گیا ۔

سوات میں تو حالات بدستور سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں تاہم دیر اپر اور دیر لوئر کے اضلاع میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔

دونوں اضلاع میں پہلے سرحد پار سے حملے ہوئے اور پھر حال ہی میں ثمر باغ کے علاقے میں حکومتی حامی لشکر کے افراد پر نماز جنازہ کے دوران خودکش حملہ کیا گیا جس میں چالیس کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس واقعہ کے دو دن بعد اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر ایک اور حملہ بھی کیا گیا جس میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور جوابی کاروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے۔

Image caption عسکریت پسند ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں جیسے وہ دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔

اس سے قبل عسکریت پسندوں نے صوبہ کے سب سے پرامن سجھنے جانے والا ضلع چترال میں آرندو کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی آٹھ چیک پوسٹوں کو نشانہ بنا کر وہاں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے اور اس حملے میں بتیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد چترال سے لے کر دیر تک پاک افغان سرحدی پٹی پر فوج کے ریگولر دستوں کو تعینات کیا گیا۔

اس کے علاوہ عید الفطر کے روز باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے بیس کے قریب نواجون لڑکوں کو طالبان اغواء کر کے سرحد پار افغانستان لے گئے اور مغویوں میں کوئی بھی ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔ ان تمام واقعات کی ذمہ داری مالاکنڈ اور باجوڑ کے طالبان قبول کرچکے ہیں۔

باجوڑ، مہمند ایجنسی اور سوات میں آپریشنوں کے بعد طالبان کے ذرائع ابلاغ سے رابطے کم ہوگئے تھے لیکن اب وہ دوبارہ میڈیا سے رابطے بڑھا رہے ہیں جس سے وہ ایک ایسا تاثر دینے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ جیسے وہ پھر سے سرگرم اور منظم ہورہے ہیں۔ یعنی یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ’زندہ‘ ہیں ختم نہیں ہوئے۔

عام لوگ بھی طرح طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں اور ان میں تشویش بھی بڑھی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید طالبان کا خاتمہ ہوگیا ہے لیکن حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے مہمند ایجنسی میں طالبان کمانڈر عمر خالداور باجوڑ ایجنسی کے عسکریت پسند کمانڈر مولوی فقیر محمد اور افغان طالبان کمانڈر قاری ضیاء الرحمان گروپوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں اور ان گروپوں نے میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات بھی لگائے تھے۔ لیکن اب بظاہر لگتا ہے کہ یہ تمام گروپ آپس کے اختلافات ختم کر کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں ایک چھتری تلے منظم ہورہے ہیں۔

خود کو کمانڈر عمر خالد کا معاون ظاہر کرنے والے مکرم خراسانی نامی ایک جنگجو نے بی بی سی کو فون کرکے طالبان گروپوں میں اختلافات کی تردید کی۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کچھ عرصہ پہلے بعض غلط فہمیوں کے باعث طالبان گروپوں میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے لیکن اب وہ ختم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام علاقوں کے طالبان ایک امیر حکیم اللہ محسود کے ماتحت ہیں اور ان میں کوئی گروہ بندی یا اختلاف نہیں۔

اسی بارے میں