جی او سی سوات زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ سوات کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں وہ زخمی ہوئے ہیں اور جنھیں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

فوج کے شبعہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ بدھ کو بارہ بجے کے قریب اپر دیر کی تحصیل براول کے علاقے سنگیالے میں نامعلوم شدت پسندوں نے ایک پہاڑی سلسلے سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی ہے جس میں جی آو سی سوات میجر جنرل جاوید اقبال سوار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے میجر جنرل جاوید اقبال کی ٹانگ پر زخم آیا ہے۔ جنھیں اسلام آباد منتقل کردیا گیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر محفوظ ہے اور واقعہ کے بعد ہیلی پٹر کو دیر ہی میں اُتار دیاگیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے فوجی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ لیکن اس میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دریں اثناء اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان مالاکنڈ ڈیوژن کے ترجمان مولانا سراج الدین نے قبول کر لی ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس حملے میں ہیلی کاپٹر تباہ ہو گیا تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر کئی اور حملوں کرنے کے دعوے کیے۔ آزاد ذرائع سے علاقے میں کسی ایسے حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ جس پہاڑی سلسلے میں فوجی ہیلی کاپٹر پر حملہ ہوا ہے یہ علاقہ افغان سرحد کے اُوپر واقع ہے جہاں سے کئی بار سرحد پار سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے ہوچکے ہیں۔

اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن دیر میں گزشتہ چند ہفتوں سے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔اس واقعہ سے ایک ہفتہ پہلے دیر کے علاقے ثمرباغ میں ایک جنازے پر ہونے والے حملے میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں