کراچی:’تفتیش میں خاص پیشرفت نہیں ہو سکی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایس ایس پی سی آئی ڈی کی رہائش گاہ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے

کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کے گھر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات میں اب تک کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور منگل کو وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے اس دھماکے کو پہلے سے نصب شدہ بم کے نتیجے میں دھماکہ قرار دینے سے اس واقعے کے بارے میں ابہام بڑھ گیا ہے۔

اس واقعے کے تفتیشی افسر سندھ پولیس کے سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے ایس ایس پی راجا عمر خطاب نے بی بی سی کے حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک تفتیشی افسر ہونے کے ناطے وہ اس حملے کو خودکُش قرار دیتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ’یہ بات میں اب تک حاصل ہونے والے ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کیونکہ تفتیش ثبوت و شواہد کی بنیاد پر ہوتی ہے اگر ہمیں کوئی ثبوت ملا تو ہم اس رائے کو تبدیل کر سکتے ہیں مگر فی الوقت یہ خودکُش حملہ ہی کہلائے گا۔‘

کراچی میں خودکش حملہ: تصاویر

حکومت کے کچھ اہلکاروں کی جانب سے متضاد بیان پر ایس ایس پی ایس آئی یو راجا عمرخطاب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خود کُش حملے کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔’ایک جس میں حملہ آور بارود سے بھری جیکٹ پہن کر حملہ کرتا ہے اور دوسری خودکُش کار بم حملہ ہوتا ہے جس میں بارود سے بھری گاڑی کو ہدف کے قریب لے جا کر دھماکے سے اڑا دیا جاتا ہے۔‘

راجا عمر خطاب کے مطابق ’یہ حملہ خود کُش کار بم حملہ تھا اور حملہ آور گاڑی میں تھا، ایسے حملے کراچی میں پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جس میں شیرٹن ہوٹل کے باہر، میریٹ ہوٹل کے عقب میں، امریکی قونصلیٹ کے باہر اور سی آئی ڈی کی عمارت میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔‘

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ حملہ آور گاڑی کو کسی چیز یا عمارت سے نہیں ٹکراتا بلکہ گاڑی کھڑی کر کے ایک سوئچ آن کر دیتا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے منگل کو کراچی ائرپورٹ پر میڈیا کو بتایا تھا کہ پیر کے روز ہونے والا دہشت گرد حملہ خودکُش نہیں تھا بلکہ ایک بم نصب کیا گیا تھا اورانہیں یہ رپورٹ ایف آئی اے نے دی ہے۔

ڈیفنس میں ہونے والے حملے کی تفتیش کے بارے میں راجا عمر خطاب نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ان کے پاس کچھ ڈی این اے رپورٹس اور فنگر پرنٹس ہیں جس کی بنیاد پر تفتیش ہو رہی ہے تاہم ابھی مزید تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جس سے یہ کہا جا سکے کہ یہ حملہ تحریکِ طالبان یا لشکرِ جھنگوی کی جانب سے کیا گیا تھا مگر کیونکہ تحریک طالبان نے اس کی ذمہ دار قبول کی ہے اس لیے اس بات کو بطورِ ثبوت لیا جا رہا ہے۔

میڈیا میں آنے والے رپورٹ جس میں ذرائع کے حوالے سے دعوٰی کیاگیا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کراچی ایسٹ کے مضافاتی علاقے میں تحریک طالبان کراچی کے امیر کے گھر پر ہوئی تھی جس میں دھماکے میں استعمال ہونےوالی گاڑی بلدیہ ٹاؤن میں تیار کی گئی تھی، اس پر ایس ایس پی عمر خطاب کا کہنا تھا کہ انہیں بھی اس بات کا میڈیا کے ذریعے ہی پتہ چلا ہے کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اسی بارے میں