کراچی: ڈینگی متاثرین کی تعداد میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبہ سندھ کے دیگر اضلاع میں میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد انتالیس ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ نو ستمبر سے اب تک ڈینگی بخار سے تین افراد ہلاک ہو چکے جس میں ایک خاتون اور ایک چھ سالہ بچی بھی شامل ہے۔

اس طرح جنوری سے اب تک سندھ میں ڈینگی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہوگئی ہے جس میں سے تین افراد گزشتہ بارہ روز میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک موت اس سال فروری کے مہینے میں ہوئی تھی۔

سندھ میں حالیہ بارشوں کے بعد ڈینگی بخار

ڈینگی بخار اب صوبہ سندھ میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب تک صرف کراچی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد دو سو تینتالیس ہوگئی ہے۔

ڈینگی سرویلنس سیل کے انچارج ڈاکٹر شکیل ملک نے اس بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا کہ دو سو تینتالیس کے علاوہ پینتیس افراد کے ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے کا شک ہے اس طرح یہ تعداد صرف کراچی کی حد تک دو سو اٹھہتر تک پہنچ گئی ہے۔

صوبہ سندھ کے دیگر اضلاع میں میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد انتالیس ہے جبکہ چھتیس مشتبہ مریض اس کے علاوہ ہیں۔

ڈاکٹر شکیل ملک نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار سرکاری اور نجی دونوں ہسپتالوں سے حاصل کر کے مرتب کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت تمام اضلاع میں ضلعی حکومتوں کو ڈینگی ٹیسٹ کی کٹس فراہم کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ضلعی حکومتیں مچھر مار سپرے بھی کر رہی ہیں اور جس گھر میں ڈینگی کا مریض پایا گیا تو اس کے آس پاس کے علاقے میں بھی خصوصی طور پر سپرے کیا جا رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی اور اس کی روک تھام اور خاتمے کے لیے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر شکیل کے مطابق اگر کسی کو ڈینگی ہو بھی جائے تو اسے زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا کسی مستند معالج سے باقاعدہ علاج کروانا چاہیے۔

اسی بارے میں