زائرین پر حملے کے خلاف کوئٹہ میں ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک ہونے والے زائرین کو ہزارہ ٹاؤن اور بروری کے قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کوئٹہ سے ایران جانے والی بس میں سوار زائرین پر ہونے والے حملے کے خلاف بدھ کو کوئٹہ میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔

اس حملے میں انتّیس افراد ہلاک ہوئے تھے جنہیں بدھ کے روز کوئٹہ میں سپرد خاک کردیاگیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق تحفظ اعزاداری کونسل، شیعہ علماء کونسل اور ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کی اپیل پر بدھ کو کوئٹہ شہر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی اور تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی قدرے کم تھی۔

اس موقع پر صوبائی حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جس کے باعث کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

دوسری جانب ہلاک ہونے والے انتیس زائرین کی میّتوں کوسخت حفاظتی انتظامات میں بدھ کے روز کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن اور بروری کے قبرستان میں سپردخاک کر دیاگیا۔ یہ زائرین منگل کے روز کوئٹہ سے ایک بس میں ایران جا رہے تھے کہ ضلع مستونگ میں لکپاس کے قریب نامعلوم افراد نے بس کو روکنے کے بعد انہیں اتار کرگولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

کالعدم سنی تنظیم لشکرجھنگوی کے ترجمان علی شیرحیدری نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرکے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ان زائرین کوہلاک کرنے کے ذمہ داری قبول کی تھی۔

زائرین کی نماز جنازہ میں مذہبی، سیاسی وسماجی کارکنوں اور سوگواروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تاہم کوئی اعلٰی حکومتی عہدیدار شامل نہیں ہوا۔

دریں اثناء ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اور ادارے ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کوتحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’حکمران بین الاقوامی سازشوں کے ذریعے بلوچستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔‘

انہوں نے بدھ کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو مستونگ میں زائرین کی بس پر ہونے والی فائرنگ اوراس کے نتیجے میں تیس افراد کی ہلاکت ایک وحشیانہ عمل ہے۔ جس طرح مسافروں کو کوچ سے اتار کر لائنوں میں کھڑا کر کے ان پر فائرنگ کی گئی اس طرح کی دہشت گردی اوربربریت کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

اسی بارے میں