سیالکوٹ قتل، سات کو سزائے موت

Image caption دو سگے بھائیوں کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سیالکوٹ میں بھرے مجمع اور پولیس کی موجودگی میں دو سگے بھائیوں کے وحشیانہ قتل کے الزام میں سابق ضلعی پولیس افسر سمیت بائیس ملزمان کو سزائیں سنا دی ہیں۔

گوجرانوالہ میں عدالت کے جج مشتاق احمد گوندل نے دونوں بھائیوں کے قتل کے الزام میں سات ملزمان کو چار، چار مرتبہ سزائے موت اور چھ ملزمان کو چار ، چار بار عمر قید کی سزا سنائی جبکہ ملزمان کو جرمانے کی ادائیگی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

سیالکوٹ قتل: مقدمہ کی کارروائی مکمل

عدالت نے اس مقدمہ میں نامزد ملزم اور سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان سمیت نو پولیس اہلکاروں کو تین تین سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے مقدمہ میں ملوث پانچ ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق عدالت نے مقدمہ پر ایک سال سے زیادہ عرصہ تک سماعت کی اور منگل کو وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو رات گئےگیارہ بجے کے قریب سنایا گیا۔

گزشتہ برس پندرہ اگست کو سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کی موجودگی میں بہت سے لوگوں نے دو سگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو رسیوں سے باندھا اور اس کے بعد دونوں بھائیوں پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے انہیں ہلاک کردیا گیا تھا۔

لوگوں نے دونوں بھائیوں کی لاشوں کو پہلے الٹا لٹکایا اور بعد میں ان بھائیوں کی لاشوں کو شہر میں گھمایا۔

اس واقعہ کا مقدمہ بیس اگست کو درج کیا گیا جب کہ اکیس اگست کو اس مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی۔ اس مقدمہ میں اٹھائیس نامزد ملزمان تھے جن میں ڈی پی او سیالکوٹ سمیت دس پولیس اہلکار بھی شامل تھے اور ایک پولیس اہلکار کا مقدمہ کی سماعت کے دوران انتقال ہوگیا۔

ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کے اہلِ خانہ نے عدالتی فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا اور بقول ان کے انہیں انصاف مل گیا ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف سات روز کے اندر لاہور ہائی کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی۔

گوجرانوالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران ملزمان پر نومبر دو ہزار دس کو فرد جرم عائد کی گئی اور اس مقدمہ میں اکتیس گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کی تبدیلی کی وجہ سے مقدمہ پر کارروائی کچھ عرصہ کے لیے معطل رہی۔

مقدمے میں پولیس اہلکاروں پر غفلت برتنے جبکہ دیگر افراد پر قتل کرنے اور اعانت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ہلاک کیے جانے والے دونوں بھائیوں کے خلاف مسلح ڈکیتی کرنے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

اس واقعہ کی بنائی جانے والی فوٹیج کو پاکستان میں مقامی ٹی وی چینلوں نے نشر کیا جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا نوٹس لیا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس کے اعلیٰ افسروں پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی تھی۔

اسی بارے میں