متاثرین 81 لاکھ،امداد کی ترسیل مشکل

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ڈیزاسٹر مئنجمنٹ اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صوبے میں متاثرینِ سیلاب کی تعداد اکیاسی لاکھ ہے، جن میں سے اٹھائیس لاکھ خواتین ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور اس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 369 ہوگئی ہے، جن میں 90 خواتین اور نواسی بچے شامل ہیں۔

ادھر پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سیلاب سے متاثر علاقوں کا فضائی دورہ کیا ہے، اس سلسلے میں وہ تھر کے علاقے کلوئی پہنچے ہیں۔

امدادی سامان کی ترسیل میں مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یا این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی ترسیل میں سخت مشکلات کا سامنا ہے اور اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے مسائل پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان ارشاد بھٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سندھ کے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ تئیس اضلاع میں سے زیادہ تر میں امدادی سامان کی ترسیل کا مسئلہ ہے اور اب یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہوتا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو، وفاقی کابینہ اور سینیٹ کو اس مسئلے سے آگاہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ سب کو مل کر ضلع کی سطح پر امدادی سامان کو اہلکاروں کے ذریعےمتاثرین تک پہنچانے کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت امدادی سامان جس میں خوراک اور خیمے شامل ہیں وہ دستیاب ہیں لیکن ان کو متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کے لیے اہلکار موجود نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ کئی علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے اور متاثرہ لوگ ٹولیوں میں بکھرے ہوئے اور ان تک امداد پہنچانے کے حوالے سے کوئی مربوط نظام اس وقت تک نہیں بن پا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل کے لیے دستیاب زیادہ تر لوگوں خود مسائل کا شکار ہیں، ان کے مکانات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اہلخانہ متاثر ہیں، دوسرا اس وقت نفری کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ اسی لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہیں اور امدادی کیمپوں میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

صحت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت ٹھٹھہ، تھرپارکر، ٹنڈو محمد خان اور میر پور خاص میں ملیریا کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کےعلاوہ کچھ متاثرہ علاقوں میں ڈائریا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور کچھ متاثرہ علاقوں میں کمسن بچوں اور حاملہ خواتین کو بھرپور غذائیت والی خوراک کی اشد ضرورت ہے جب کہ کچھ متاثرہ علاقوں میں سانپ کے کاٹنے کی ویکسین پہنچانے کی ضرورت ہے۔

صحت کے مراکز زیر آب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں سے سول ہپستالوں سمیت کئی صحت مراکز زیر آب ہیں، جبکہ متاثرین میں ملیریا، ڈائریا، ڈینگی بخار پھیلنے کے خدشات موجود ہیں۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق بدین میں سرکاری ہپستال اور سکول ابھی تک زیر آْب ہیں، جہاں چوالیس صحت مراکز کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد پینتالیس کیمپ اور پچیس گشتی ٹیمیں لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

ادارے کے مطابق بدین میں ڈائریا، جلد اور ملیریا کے امراض موجود ہیں، متاثرین میں سے ساڑھے چہ ہزار بچوں کو پولیو اور خسرے سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔

نوشہرو فیروز کے بارے میں ادارے کا کہنا ہے کہ یہاں پینے کے صاف پانی اور مچھر دانیوں کی اشد ضرورت دیکھی گئی ہے ان علاقوں میں ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض پھیلنے کا خدشہ موجود ہے اور ضلع میں بانوے صحت مراکز متاثر ہوئے ہیں۔

میرپورخاص کے بارے میں ادارے کے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں سے ضلعے کی ڈھانچے، فصلوں، مکانات اور ہپستالوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کیمپوں میں ٹوائلٹ غیر فعال ہیں جہاں پانی کی سہولت نہیں ہے جبکہ کیمپوں میں پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں۔

ٹنڈو محمد خان کے کیمپوں کا ذکر کرتے ہوئے ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کیمپوں میں متاثرین کو خوراک کی کمی، پینے کے صاف پانی اور نکاسی کی عدم موجودگی کا سامنا ہے جبکہ ملیریا، ڈائریا اور جلدی امراض عام ہیں۔

صحت کے عالمی ادارے کے مطابق سانگھڑ سول ہپستال، ای ڈی او صحت کے دفتر سمیت کئی تیس صحت مراکز زیرآب ہیں۔ بارشوں اور سیلاب کے پانی سے کئی گھر زیر آب آگئے ہیں جہاں کے مکینوں نے سڑکوں اور ریلوے لائین پر پناہ لے رکھی ہے۔

ادارے نے مشورہ دیا ہے کہ محکمہ صحت کے عملے کی تربیت کی جائے، سکولوں، ہپستالوں اور لوگوں کے پینے کے لیے فراہم ہونے والے پانی کا باقاعدگی سے ٹیسٹ کرایا جائے۔

کیمپ بیماریوں کی لپیٹ میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ٹنڈو اللہ یار میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے بنائے گئے امددای کمیپوں میں پیٹ، جلد اور ملریا اور آنکھوں کی بیماریاں بڑی تیزی سے پھیلنا شروع ہوگئی ہیں اور ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت انتظامات نہ کیے گئے تو یہ بیمارں وبا کی طرح پھیل جائیں گی۔

ٹنڈو اللہ یار بھی سندھ کے اُن اضلاع میں شامل ہے جو حالیہ بارشوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔

اس ضلع کے ایگزیکٹیو ڈایریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر عبدالجلیل باچانی کے مطابق ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے صورت حال میں بہتری کی بجائے ابتری آرہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ان امددای کیمپوں میں رہنے والے متاثرین میں پیٹ کی بیماریوں کے علاوہ جلد اور آنکھوں کی بیماریوں کے مریضوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ضلع ٹنڈو اللہ یار کو سنہ دوہزار چار میں ضلع کا درجہ دیا گیا اور اس کی تین تحصیلیں ہیں جن میں ٹنڈو اللہ یار کے علاوہ چھمبر اور جھنڈو مری شامل ہیں۔ اس ضلع کی آبادی سات لاکھ سے زائد ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق اس ضلع میں چھپن ہزار افراد سے زائد افراد حالیہ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ جنہیں ضلعی انتظامیہ کے بقول دو سو اڑتالیس امدادی کمیپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ان کیمپوں میں نہ صرف اُنہیں خوراک فراہم کی جارہی ہے بلکہ بیمار ہونے والے افراد کو اپنے طور پر طبی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ادویات اور سٹاف کی کمی کے باعث مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تاہم ڈاکٹر عبدالجیل کے مطابق محکمہ صحت کا عملہ اپنے طور ان بیماریوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سات موبائیل میڈیکل ٹیمیں ان امدادی کمیپوں کا چکر لگاتی رہتی ہیں۔

ضلعی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی شدید قلت ہے اور ای ڈی او ہیلتھ کے مطابق کوئی بھی ڈاکٹر شہر چھوڑ کر ایسے چھوٹے ضلعوں میں آنے کو تیار نہیں ہے۔

سات لاکھ کی آبادی والے اس ضلع کے بڑے ہسپتال میں صرف دو گائناکالوجسٹ ہیں، ایک بچوں کا ڈاکٹر ہے جو چھٹی پر گیا ہوا ہے جبکہ آنکھوں کے امراض کا بھی صرف ایک ڈاکٹر ہے جبکہ جلد گُردے اور پیٹ کی بیماریوں کا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔

غیر مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق ان امدادی کمیپوں میں دوہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جبکہ چھ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد بارہ ہزار ہے۔ چھ سے دس سال کی عمر کے درمیان بچوں کی تعداد بیس ہزار کے قریب ہے۔

ان امدادی کیمپوں میں پھیلنے والی بیماریوں کا سب سے زیادہ شکار خواتین اور بچے ہو رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق پانچ افراد ان امدادی کیمپوں میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار ان کو طبی موت قرار دیتے ہیں۔

میں نے ان تین تحصلیوں کا دورہ کیا ہے لیکن مجھے ان کیمپوں میں طبی امداد فراہم کرنے والا عملہ نظر نہیں آیا۔ جھنڈو مری میں واقع ایک کیمپ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ چار روز کے بعد موبائیل ٹیمیں چکر لگاتی ہیں۔ اس کمیپ میں موجود ایک متاثرہ شخص بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں نہ آنے کی وجہ سے اُنہیں بیمار افراد کو ضلعی ہسپتال لےکر جانا پڑتا ہے جو بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لیکن وہاں پر بھی ادویات نہیں ملتیں۔

جماعت الدعوۃ جسے حکومت نے کالعدم قرار دیا ہے اُس کی دو ٹیمیں امدادی کیمپوں کے علاوہ سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے افراد کو طبی امداد فراہم کرتی ہوئی نظر آئی ہے۔ اس تنظیم کے ارکان کے بقول اُنہوں نے دو روز قبل ہی متاثرہ افراد کو طبی امداد کی فراہمی شروع کی ہے جبکہ سیلاب کو آئے ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔

ڈاکٹر عبدالجلیل باچانی کے مطابق صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے نمائندوں سے علاقے کا دورہ کیا ہے اور وہ آئندہ چند روز میں اپنا کام شروع کردیں گے۔