’بیماری سے زیادہ دہشت وباء بن گئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہسپتالوں اور پرائیوٹ کلینکس میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جہاں سینکڑوں لوگ ڈینگی وائرس کا شکار ہیں وہیں اس وائرس کے متعلق کئی مفروضات بھی سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اس بیماری سے زیادہ اس کی دہشت وبا بن چکی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے ہونے والا بخار مہلک نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے بقول اس وائرس کے تین مراحل یا تین اقسام ہیں اور فی القوت پنجاب میں اس مرض میں مبتلا افراد میں ایک بڑی تعداد ایسے مریضوں کی ہے جو ہسپتالوں میں داخلہ لیے بغیر اپنے گھروں میں رہتے ہوئے صحت یاب ہو سکتے ہیں۔

لاہور کے سروسز ہسپتال میں ماہر امراضِ جگر ڈاکٹر سجاد نثار نے بی بی سی اردو کی نخبت ملک کو بتایا کہ ڈینگی بخار مہلک نہیں ہے البتہ ڈینگی ’ہیمریجک‘ اور ’ڈینگی شاک‘ اس مرض کے ایسے مرحلے ہیں جن میں مریض کو جان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کی اکثریت وہ ہے جو محض ڈینگی بخار میں مبتلا ہے اور ان میں سے نوے فیصد افراد صحت یاب ہو سکتے ہیں۔

لاہور کے رہائشی تیس سالہ شعیب اقبال آج سے ایک ماہ قبل ڈینگی بخار میں مبتلا ہوئے لیکن ان میں اور ہسپتال مں داخل ہونے والے سینکڑوں مریضوں میں یہ فرق ہے کہ پندرہ دن کی تکلیف اٹھانے کے بعد آج شعیب اقبال صحت یاب ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نہ تو انہوں نے کوئی ادویات لیں اور نہ ہی ہسپتال میں داخلہ لینا ضروری سمجھا۔

تو پھر روزانہ ہسپتالوں اور پرائیوٹ کلینکس ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر سجاد نثار کے بقول ’لوگ خوف میں مبتلا ہیں۔ یہ خبر صرف پھیلا دی گئی ہے کہ زندگی بچانے کے لیے پلیٹلیٹس بہت ضروری ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مریض دن میں تین مرتبہ پیناڈول لے۔میں سمجھتا ہوں ہسپتال میں داخلہ لینا بھی ضروری نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے سے دیگر بیماریاں لگنے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر سجاد کا کہنا ہے ’یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگرچہ ڈینگی سے پلیٹلیٹس یا خون کے ذرات کم ہو جاتے ہیں لیکن ان کی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی۔ جسم میں قوتِ مدافعت سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نوے فیصد کیسز میں دس سے بارہ دن میں ڈینگی وائرس جسم سے اپنے آپ نکل جاتا ہے

انھوں نے کہا ’ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایلوپیتھی کے علاوہ ڈینگی وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن ڈینگی ایک ایسا وائرس ہے جو نوے فی صد کیسز میں دس سے بارہ دن کے دوران جسم سے اپنے آپ بغیر کسی سائڈ افیکٹس کے نکل جاتا ہے۔ تاہم جگر میں ورم ضرور محسوس ہوتا ہے لیکن قدرتی طور پر وہ ورم بھی پندرہ دن سے ایک مہینے کے دوران خود بخود ٹھیک ہو جاتاہے۔‘

ڈاکٹر نثار نے ڈینگی بخار میں مبتلا افراد کی اموات کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کو ذیابیطس یا کوئی اور بیماری پہلے سے ہے تو اس کی قوت مدافعت ظاہری بات ہے پہلے سے ہی کمزور ہوتی ہے۔ لہذا وہ ڈینگی بخار کے اگلے مرحلے تک جا سکتا ہے جو جان لیوا بھی ہے تاہم اس وقت اس بیماری میں مبتلا افراد کی زیادہ تر اموات محض آگاہی نہ ہونے کے باعث ہی ہیں۔

ڈاکٹر سجاد کے مطابق ڈینگی بخار میں مبتلا فرد محض پانچ سو روپے میں ٹھیک ہو سکتا ہے کیونکہ نہ تو پلیٹلیٹس کی ضرورت ہے نہ ہی کسی ہسپتال میں داخل ہونے کی۔ لہذا اگر اتنی سی بات سمجھ لی جائے تو نہ صرف لوگ بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ اس وبا پر قابو بھی پا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں