سیلاب زدہ علاقوں کا آنکھوں دیکھا حال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبۂ سندھ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ بی بی سی اردو کے متعدد رپورٹر ان متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ یہاں پر ان رپورٹرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔

(یہ صفحہ اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا)

ریاض سہیل، کراچی

سندھ کے صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں سیلاب متاثرین کی تعداد اکیاسی لاکھ بتائی ہے، جن میں اٹھائیس لاکھ خواتین ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بارشوں اور اس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو انہتر ہوگئی ہے، جن میں نوے خواتین اور نواسی بچے شامل ہیں۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سیلاب سے متاثر علاقوں کا فضائی دورہ کیا ہے، اس سلسلے میں وہ تھر کے علاقے کلوئی پہنچے ہیں۔

احمد رضا، حیدرآباد

صوبہ سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں لگ بھگ 70 ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں جن کی اکثریت خیموں یا دوسرے شیلٹر سے محروم ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق 21 ہزار متاثرین کو مختلف کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے اور باقی لوگ نہروں کے کناروں، سڑکوں اور بلند مقامات پر مقیم ہیں۔

شہزاد ملک، ٹنڈؤ محمد خان

ٹنڈو محمد خان میں سیلاب سے متاثرہ افراد جو پہلے ہی اپنے گھر بار سے دور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، انہیں اب ایک نئی مشکل کا سامنا ہے اور وہ یہ کہ ان کے مال مویشی چوری ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ٹنڈو محمد خان کی تحصیل ٹنڈو غلام حیدر میں پولیس کے مطابق اب تک بیس کے قریب گائے، بھینسیں، بکریاں وغیرہ چوری ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع بدین کی تحصیل ماتلی میں بھی مویشیوں کے چوری ہونے کی اطلاعات ہیں اور وہاں پر دن بھر امداد کے لیے مارے مارے پھرنے والے لوگ رات کو جانوروں کی حفاظت کے لیے جاگنے پر مجبور ہیں۔

احمد رضا، حیدر آباد

نوابشاہ میں تین دن قیام کے بعد کل رات حیدرآباد پہنچا ہوں۔ حیدرآباد میرا اپنا شہر ہے اور دو سال بعد یہاں آنے پر سکون سا محسوس ہوا لیکن خیرپور، نوشہرو فیروز اور پھر نوابشاہ کے متاثرین سیلاب کے تکلیف دہ حالات کے مناظر اب بھی دماغ میں بسے ہیں۔

ایک متاثرہ بستی میں دو سال کے ایک معصوم بچے کا چہرہ تو جیسے دماغ میں اٹک کر رہ گیا ہے۔ اس کا چہرہ اور گردن پھوڑے پھنسیوں سے بھرے ہوئے تھے اور وہ شدید تکلیف میں تھا۔ ان لوگوں تک پچھلے تین ہفتوں سے کوئی طبی مدد نہیں پہنچی تھی اور طبی ٹیم کے پہنچنے پر گاؤں والوں کے چہرے کھل اٹھے تھے۔

نوابشاہ میرا دوسرا گھر رہا ہے کیونکہ دس سال پہلے اکثر یہاں دوستوں سے ملنے کے لیے آنا جانا ہوتا تھا۔میری اہلیہ بھی اسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور آج یہ یونیورسٹی، اس کے ملازمین کی کالونی اور ہاسٹلرز دو سے چار فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

نوابشاہ سے حیدرآباد واپسی پر راستے کا منظر بالکل بدلا ہوا تھا۔ راستے کے دونوں جانب سیلاب میں ڈوبے دیہات نوابشاہ سکرنڈ روڈ اور نیشنل ہائی وے پر آ بسے ہیں۔

سڑک پر انسان اور جانور ایک ساتھ آرام کرتے نظر آئے۔ بعض خاندان چارپائیوں کو ایک ساتھ جوڑ کر کچہری کرتے یا کھانا کھاتے بھی دکھائی دیے۔

گاڑی رکوا کر ایسے ہی بعض متاثرین سے بات ہوئی تو ان کا شکوہ تھا کہ انہیں پینے کا صاف پانی نہیں ہے اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے کھانا یا راشن مل رہا ہے۔

شہزار ملک ٹنڈو اللہ یار

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ضلع میں چھپن ہزار متاثرین ہیں اور ایگزیکٹیو ٹاؤن آفیسر نے دعوی کیا کہ پینتالیس ہزآر افراد کو مختلف بیماریوں کے علاج کی دوائیاں فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن کسی بھی امدادی کیمپ میں کوئی طبی ٹیم کام کرتی نظر نہیں آتی۔ البتہ ایک کالعدم تنظیم کی گاڑیاں طبی ٹیمیں لیے امدادی کیمپوں میں سرگرم نظر آتی ہیں۔

ریاض سہیل کڑئیو گنور، بدین

قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے حلقۂ انتخاب میں کڑئیو گنور کے علاقے میں اقلیتی برداری سے تعلق رکھنے درجنوں افراد بدھ کو بڑی شاہراہ پر نکل آئے اور دھرنہ دے کر سڑک کو بند کر دیا۔ یہ لوگ بارشوں کے بعد سے اب تک امداد نہ ملنے پر احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ جب تک کوئی سیاسی بااثر شخصیت نہ کہنے ان کو امداد مہیا نہیں کی جا سکتی۔ یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے شوہر ذوالفقار مرزا اس حلقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے تھے۔

علی سلمان، جوہی، دادو

میرے ہمسفر ڈرائیور میاں جی خستہ گل بھی سیلاب زدہ علاقے کے ایک ہوٹل سے کھانا کھا کر بیمار پڑ گئے ہیں۔ لاکھوں متاثرینِ سیلاب میں اب ہم بھی شامل ہو گئے ہیں۔ کل سے نہ تو اب تک سیلاب زدگان کے لیے کوئی حکومتی کیمپ نظر آیا نہ ہی میاں جی کی نبض جانچنے کے لیے کوئی سرکاری ڈاکٹر ملا۔ میاں جی پیٹ درد کے باوجود سندھ کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر گاڑی بھگائے جا رہے ہیں۔ جوہی، ضلع دادو کے علاقے میں ایک نجی ڈاکٹر حمید سومرو کا علم ہوا۔ چلیے اب انہیں ہی سے دوا دارو لے لیتے ہیں۔

اسی بارے میں