کام کے لیے عمر پڑی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’ایک بزرگ نے درخت کے سائے میں لیٹے ہوئے نوجوان سے کہا کہ تم سارا دن آرام کرتے رہتے ہو جاو اور جاکر محنت مزدوری کرو۔ اُس نوجوان نے بزرگ سے کہا کہ اس سے کیا ہوگا تو بزرگ نے کہا کہ اس سے تم پیسہ کماو گے اور پھر تمہاری زندگی آرام سے بسر ہوگی نوجوان نے کہا کہ آرام تو میں اب بھی کررہا ہوں تو پھر مجھے اتنا تردد کرنے کی کیا ضرورت ہے’

یہی مثال سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد میں شامل نوجوانوں کی اکثریت پر پورا اُترتی ہے۔

ضلع بدین کے علاوہ اُس کی تین تحصلیوں تلہار،ٹنڈو بھاگو اور ماتلی کے دورے کے دوران یہ بات مشاہدے میں آئی کہ نوجوانوں اور درمیانی عمر کے مردوں کی ایک بڑی تعداد چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے سارا دن گُزاد دیتی ہے جبکہ اُن کی مائیں بیویاں یا بنہیں خوراک کی تلاش کے لیے یا تو محنت مزدوری کی تلاش میں نکلتی ہے یا پھر لائینوں میں لگ کر امدادی سامان حاصل کرنے کی سعی کرتی ہیں۔

ضلع بدین میں سڑک کے کنارے سندھی ٹوپی پہن کر چارپائی پر بیٹھے اور مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ایک ایسے ہی پچیس سالہ نوجوان نذیردہاریجو سے پوچھا کہ تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے تو اُس نے بے دھڑک ہوکر کہا کہ کہ سائیں کام کرنے کے لیے پوری زندگی پڑی ہے ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔

میں جب اُس سے پوچھا کہ تمہارا کُنمبہ کتنے افراد پر مشتل ہے تو اُس کا کہنا تھا کہ اُس کا کنمبہ آٹھ افراد پر مشتمل ہے جس میں اُس کی والدہ کے علاوہ اُس کی بیوی اور چار بنہیں اور ایک اُس کا تین سال کا بیٹا بھی شامل ہے

نذیر کی دو چھوٹی بہنیں بھی چارپائی پر بیٹھی ہوئیں تھیں۔ میرے استفسار پر اُس نے مجھے بتایا کہ اُس کی والدہ، بیوی اور اور دو بہنیں وڈیرے کے کھیتوں سے جو تھوڑی بہت کپاس بچ گئی ہے وہ چُننے گئی ہیں۔

کپاس چُننے کی مزدوری کا سُن کر میں حیران رہ گیا کہ خواتین کو ایک کلو کپاس چُننے کے پانچ روپے ملتے ہیں اس طرح تین سے چار خواتین پورے دن میں بیس سے پچیس کلو تک کپاس چن لیتی ہے جس کی اُجرت ایک سو روپے سے لیکر سوا سو روپے تک ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ یہ اُجرت روزانہ ملے۔ کپاس کے ان کھتیوں میں کچھ نوجوان مرد بھی کام کرتے ہوئے نظر آئے۔

نذیر کو میں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کی طرف سے ٹنوں کے حساب سے سامان آرہا ہے تو تم وہاں چلے جاو اور ٹرکوں سے سامان اُتار کر گوداموں میں رکھوا دیا کرو چونکہ ضلعے کے ڈسٹرک ریونیو افسر نے مجھے بتایا تھا کہ اس معاملے میں افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔

میں نے اُس سندھی نوجوان سے کہا کہ مقامی انتظامیہ اُسے تین سو روپے روزانہ کے حساب سے اُجرت بھی دے گی۔

نذیرنے کہا کہ کہ جاو اور اپنا کام کرو مجھے نصیحت نہ کرو میں اپنا اچھا بُرا خود سوچ سکتا ہوں اُس کو شائد میری یہ بات بُری لگی اور وہ چارپائی سے اُٹھ کر چلا گیا یہی بات میں نے قریب بیٹھے ہوئے دیگر پانچ نوجوانوں سے کہی اُن میں سے ایک کے پاس موبائیل تھا جس پر وہ گانے سُن رہے تھے تو وہ مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگے۔ چونکہ اُن میں سے دو کے پاس کلہاڑی بھی تھی اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

سندھی ٹوپی اجرک اور کلہاڑی صوبہ سندھ کی ثقافت کا ایک حصہ ہے۔اندورن سندھ میں آپ کو ایسے ہزاروں نوجوان ملیں گے جو کہ ٹوپی اجحرک پہنے اور ہاتھ میں کلہاڑی پکڑے ’ ویلے مصروف’ کی طرح ادھر اُدھر گھومتے دیکھائی دیں گے۔

اس ضلع میں سیلاب سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم بدین ڈویلپمنٹ اینڈ رسرچ آرگنائزشن سے وابسطہ رفیق احمد سموں جنہوں نے بھرپور میری رہنمائی کی اُنہوں نے اس بات سے اختلاف کیا اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ سفارش کی بنیاد پر لوگوں کو اُجرت دیتی ہے۔ اُن کے بقول لاتعداد لوگ لائنوں میں روزگار کے لیے کھڑے ہوتے ہیں لیکن اُنہیں روزگار نہیں ملتا۔

سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے سب سے زیادہ امدادی سامان ضلع بدین میں ہی آرہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور دیگر اداروں کی طرف سے آنے والے امدادی سامان کو اُتارنے کے لیے لیبر کو یا تو حیدر آباد سے لایا جاتا ہے یا پھر اس معاملے میں پھٹان اور پنجابی کام کرتے ہوئے نٌظر آئے تھے۔

اسی بارے میں