امریکی صحافی بھارت سے بے دخل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈیوڈ برسیمین گمنام قبروں پر ایک رپورٹ تیار کرنے کے سلسلے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے والے تھے۔

بھارتی حکام نے امریکہ کے ایک سرکردہ ریڈیو صحافی ڈیوڈ برسیمین کو ہوائی اڈے سے ہی واپس امریکہ بھیج دیا ہے۔

ڈیوڈ برسیمین گمنام قبروں پر ایک رپورٹ تیار کرنے کے سلسلے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے والے تھے۔

اس مہینے اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے حکام نے فلپائن کی حقوق انسانی کی ایک سرکردہ کارکن کو اسی طرح ہوائی اڈے سے لوٹا دیا تھا۔ وہ بھی گمنام قبروں کی تفتیش کے لیے کشمیر جانے والی تھیں۔

ڈیوڈ برسیمین امریکہ میں ’ آلٹرنیٹیو ریڈیو‘ کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔ وہ جمعہ کی صبح جب دہلی کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو حکام نے انہیں امیگریشن کے نزدیک روک لیا اور وہیں سے انہیں واپس امریکہ بھیج دیا ۔ برسیمین نے فرینکفرٹ سے اپنے ایک رفیق کو بھیجی گئی ایک ای میل میں یہ تفصیلات بتائی ہیں۔

سرکاری طور پر اس کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

کشمیری فلم ساز اور دانشور سنجے کاک نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیوڈ ہر برس بھارت آتے رہے ہیں اور انہوں نے کچھ عرصے قبل کشمیر میں کئی انٹرویو بھی کیے تھے۔ سنجے نے کہا کہ یہ حکومت کی بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔ ’یہ کیا چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کے پورے نظام پر سنگین نوعیت کے الزام ہیں اور دھیرے دھیرے سارے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔‘

کشمیر میں حقوق انسانی کے کارکن خرم پرویز نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ مسٹر برسیمین پیر یا منگل کو سری نگر پہنچنے والے تھے۔ ان کا ایک ہفتے تک قیام کا پروگرام تھا ۔ وہاں سے وہ گمنام اجتماعی قبروں پر ایک مفصل رپورٹ تیار کرنے والے تھے۔

اس سے قبل فلپائن کی حقوق انسانی کی سرکردہ کارکن نی اکوینو کو حکام نے اسی طرح سات ستمبر کو دہلی کے ہوائی اڈے سے منیلا واپس بھیج دیاتھا۔ وہ بھی کشمیر میں گمنام قبروں کے سلسلے میں کشمیر کا دورہ کرنے والی تھیں ۔

خرم پرویز کا کہنا ہے ’یہ کشمیر میں سول سوسائٹی کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ کشمیر کے حقائق باہر نہ جانے پائیں۔ لیکن خبرون کو کبھی کنٹرول نہین کیا جا سکتا۔‘

حقوق انسانی کے کارکن گوتم نولکھا کا کہنا ہے کہ پچلے کچھ مہینوں میں حکومت اور خفیہ ایجنسیاں کشمیر کے سلسلے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہو گئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’اجتماعی قبروں کا معاملہ بہت اہم ہے اور حکومت کو خدشہ ہے کہ کہیں یہ ایک سنگین مسئلہ نہ بن جائے۔‘

اس مہینے کے اوائل میں سری نگر میں ایک صحافی ڈیوڈ دیوداس کو پولیس نے میبنہ طور پر مارا پیٹا تھا ۔ خود گوتم نولکھا کو چند مہینے قبل سری نگر شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور انہیں ہوائی اڈے سے واپس دہلی بھیج دیا گیا تھا۔

حقوق انسانی کے کارکنوں اور کشمیر کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں خبروں کے سلسلےمیں شدید مشکلات اور خطرات کا سامنا ہے۔