کچھ نیا نہیں!

سیلاب
Image caption گذشتہ برس سیلاب سے خوف آتا تھا اس برس پیار آتا ہے۔

سب بارشیں ہو کے تھم چکی ہیں۔ خیرپور سے بدین اور حیدرآباد سے عمر کوٹ اور عمر کوٹ سے زیرو پوائنٹ تک اندھے ساون نے زمین کو جپھا مار کے لٹا دیا اور اس کے ساتھ ویسا واٹر بورڈنگ ٹارچر کیا جیسا امریکی سی آئی اے مشتبہ القاعدگان کے ساتھ کرتی ہے۔ مگر یہ راز رفتہ رفتہ کھلتا ہے۔

کراچی تا حیدرآباد سپر ہائی وے کے دونوں طرف مون سون کی نشانیاں ایک خوبصورت سیاحتی بروشر میں بند سبزے کے قالین کی طرح تاحدِ نگاہ ایک سو چھیالیس کلومیٹر تک کھلتی چلی جاتی ہیں اور دل اس منظر میں یُوں دوڑتا ہے جیسے روایتی اُردو ، ہندی، پنجابی فلمی ہیروئن انجانے ہوس ناک ولن سے بے نیاز کھیتوں میں دوپٹہ گھماتے کِکلی ڈالتی چلتی چلی جائے۔ حیدرآباد کی دہلیز پر رُک کر آج کل سندھو دریا کو ٹھہر کر نہ دیکھنا کفرانِ نعمت ہے۔گذشتہ برس اس سے خوف آتا تھا، اس سال پیار آتا ہے۔

گذشتہ برس انہی دنوں میں اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا اور ہاتھ میں آبی گنڈاسہ تھا۔اس بار سندھو اس باوقار بوڑھے کی طرح لگتا ہے جو داڑھی پر خضاب لگا، مکھن زدہ مونچھیں نوکیلی کر، کھڑکھڑاتے بھورے شلوار قمیض میں کندھے پر وضع داری کی اجرک ڈالے سمندر کی عدالت میں لگی پیشی پر گواہی کے لئے چُوں چُوں کرنے والے چمکیلے جوتے پہنے رواں ہو۔

حیدرآباد اس وقت دیسی و بدیسی میڈیائی ایڈمنڈ ہلیریوں کا بیس کیمپ ہے، جہاں وہ بارش زدہ زخمی اضلاع کو سر کرنے کی آخری تیاری کرتے ہیں اور اسلام آباد سے آنے والے حکمراں ہیلی کاپٹر کے سفر کی تھکن دور کرنے کے لئے زرا دیر کے لئے بطور سرکٹ ہاؤس استعمال کرتے ہیں۔

حیدرآباد سے باہر جانے والا کوئی بھی راستہ اختیار کرلیں آپ کسی زخمی ضلع میں ہی نکلیں گے۔ سو میں نے بنا سوچے میرپور خاص روڈ اختیار کی۔ زرا دیر میں ہی اندازہ ہوگیا کہ کہانی میں نیا کچھ بھی نہیں۔ یہ تو میں گذشتہ برس سینما سکوپ سکرین پر دیکھ چکا ہوں۔ صرف نام ہی تو بدلے ہیں۔ نوشہرہ بدین ہوگیا ہے۔ چار سدہ کا نام ٹھٹہ پڑ گیا ہے۔ سانگھڑ کو آپ مظفرگڑھ کہہ لیں، عمر کوٹ کو لورالائی سمجھ لیں، دریا کا نام بارش رکھ لیں، سندھو کے دائیں کنارے کو بایاں تصور کرلیں اور متاثرین کو جو چاہے سمجھ لیں یا کچھ بھی نا سمجھیں۔

وہی سڑک کے دونوں جانب کی زمین پر کھڑا پانی۔ وہی پلاسٹک شیٹوں اور گھانس پھونس کے خیمے، جانور، انسان ، بیچ بیچ میں این جی اوز کے ٹھپے والے کچھ خیمے۔

مجھے معلوم ہوگیا ہے کہیں بھی رکنا بے سود ہے۔ رک کر میں یہی تو پوچھوں گا کہ ’اب تک کیا ملا‘۔ وہ کہے گا ’کچھ بھی نہیں‘۔ میں پوچھوں گا ’ کوئی دیکھنے آیا‘ وہ کہے گا ’ کوئی نہیں‘۔ میں پوچھوں گا کچھ بچا، وہ کہے گا کچھ بھی نہیں۔ میں پوچھوں گا کھانے کو ملا وہ کہے گا کچھ بھی نہیں۔ پھر میں کہوں گا یہ تمہاری عورت کیا پکا رہی ہے۔ وہ کہے گا یہ تو اپنے پلے سے لیا ہے، حکومت نے تو کچھ بھی نہیں دیا۔ این جی اوز نے کچھ دیا ہے؟ ہاں یہ خمیہ دیا ہے، تھوڑا سا راشن بھی دیا ہے مگر پھر کوئی نہیں آیا۔ اور یہ ساتھ والے خیمے خالی کیوں پڑے ہیں، ان میں صرف ایک ایک چارپائی کیوں بچھی ہوئی ہے؟ جی یہ تینوں خیمے ایک ہی خاندان کے ہیں۔ فلانے ایم پی اے، ایم این اے کی پرچی پر ملے ہیں۔ دن میں وہ یہاں امداد کے انتظار میں رہتے ہیں اور رات کو گھر چلے جاتے ہیں۔ ہم کہاں جائیں۔ رات کو بھی یہی رہنا پڑتا ہے۔ موٹے موٹے مچھر ہمیں اور مال ( مویشی) کو کاٹتے ہیں۔ خشک جھاڑیاں جلا کر مچھر بھگاتے ہیں۔ کوہلی، بھیل یا میگھواڑ ہو کہ مسلمان مشقتی، سب کی ایک ہی کہانی ہے۔ نا زمین اس کی ہے نا سڑک اور نا ہی آواز۔۔۔۔

ہاں ٹنڈو الہ یار سے آگے سلطان آباد کے علاقے میں مجھے ایک منظر دیکھ کر اترنا پڑا۔ کسی مقامی این جی او کی سوزوکی کو متاثرین نے گھیر رکھا تھا۔ ایک ڈاکٹر اور اس کے تین ساتھی چیک اپ کرتے ہوئے مریضوں کو کھانسی کا شربت، پین کلرز اور ملیریا سے بچاؤ کی دوا دے رہے تھے۔ ڈاکٹر نے ایک متاثر کو چیک کرتے ہوئے کہا صاف پانی ڈھک کے رکھا کرو اگر ڈینگی بخار سے بچنا ہے۔ مریض نے کہا پہلے صاف پانی تو دو تاکہ ہم اسے ڈھک سکیں۔ لاجواب ڈاکٹر نے میری طرف مڑتے ہوئے کہا۔ دیکھا آپ نے سیلاب کا فائدہ! ان لوگوں کی اوئیرنس کتنی بڑھ گئی ہے۔

میر پور خاص حالانکہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہے لیکن یہاں عام سے خاص تک کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں کہ تباہی کا سبب معمول سے بارہ گنا زائد بارشیں ہیں۔ان کا خیال ہے کہ جب تک ہاکڑو، مہرانو، پران، ڈھورو اور نارو جیسے پانی بہا لے جانے والے روایتی راستے کھلے تھے ان کے ذریعے اضافی پانی سمندر اور صحرا کی طرف بہہ جاتا تھا۔ پھر یہ راستے مختلف لالچی ادوار میں سرکاری نقشے سے غائب ہوتے گئے اور ان پر پٹرول پمپس، رہائشی کالونیاں، زرعی زمینیں اگ آئیں۔

دو دو سو فٹ کے قدرتی سیلابی راستے سکڑ کے کہیں آٹھ تو کہیں دس تو کہیں بیس فٹ کے رہ گئے۔ اُوپر سے لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کی زنجیر پاؤں میں ڈل گئی جس نے ان راستوں کو آرپار کاٹ کے رکھ دیا۔ چنانچہ اضافی پانی جائے تو کہاں جائے۔ کوئی راستہ دینے کو تیار نہیں۔ پٹرول پمپ والا کہتا ہے پہلے فلانے تالپور کی زمینوں میں سے راستہ نکالو تو پھر میں راستہ دوں گا۔ فلانا تالپور کہتا ہے کہ پہلے فلانے سید کا بنا ہوا محل گراؤ تو پھر میں اپنی زمینوں کو بچانے والے پرائیویٹ بند میں شگاف ڈالنے دوں گا۔ فلانا سید کہتا ہے کہ خبردار کسی نے اگر میرے بنگلو کی طرف آنکھ اٹھانے کی کوشش کی، میں آصف زرداری سے کہہ کر بیلٹیں اور پتلونیں اتروا دوں گا۔

ابھی پانی تو غیر سیاسی ہوتا ہے نا سائیں۔ وہ بچارا کیا جانے یہ سیاست اور اس کے داؤ پیچ !!!

اسی بارے میں