’جنرل جیمز کی جنرل کیانی سے ملاقات‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل کیانی نے حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے امریکی الزامات کو بے بنیاد اور افسوسناک قرار دیا تھا

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز این میٹس نے راولپنڈی میں پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی ہے۔

لیکن سرکاری طور پر جنرل جمیز میٹس کے دورہ پاکستان یا ان کی پاکستانی فوجی سربراہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

اس ملاقات کی خبریں ایک ایسے وقت پر آئیں جب حال ہی میں امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے الزام لگایا تھا کہ کابل پر حالیہ حملوں میں ملوث مبینہ شدت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا فوجی بازو ہے۔

امریکی الزامات بے بنیاد ہیں: جنرل کیانی

امریکہ ہمارے بغیر نہیں رہ سکتا: وزیراعظم گیلانی

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق مقامی ٹی وی چینیلز کے مطابق جنرل کیانی اور جنرل جیمز کے مابین ملاقات میں خطے کی مجموعی صورت حال اور دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ اس سے پہلے جمعہ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان میں حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کے بارے میں ایڈمرل مائیک مولن کے بیان کو افسوسناک اور حقائق کے منافی قرار دیا تھا۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی یہ بھی کہا تھا کہ مائیک مولن اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کون سے ملکوں کا حقانی گروپ کے ساتھ رابط ہے اور صرف پاکستان کو موردِ الزام ٹہرانا غیر منصفانہ اور غیر سود مند ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نےمتنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ کی جانب سے پاکستان پر شدت پسندوں کی حمایت کے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ اپنے اتحادی سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعہ کو امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن کے بیان پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ اگر اس طرح کے منفی پیغام آئیں گے تو ان کے لیے قوم کو قائل کرنا مشکل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ’امریکہ نہ ہمارے ساتھ رہ سکتا ہے اور نہ ہمارے بغیر ہی اس کا گزارا ہوسکتا ہے۔‘

اسی بارے میں