کراچی: تحریک طالبان کا اہم رکن گرفتار

مسعودالرحمن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسعود الرحمن کو بیت اللہ محسود کا قریبی ساتھی مانا جاتا ہے۔

کراچی میں سی آئی ڈی پولیس نے کا کہنا ہے کہ ایک کارروائی کے دوران کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مبینہ شدت پسندمسعود الرحمان عرف پردیسی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان کا کہنا ہے کہ مسعود الرحمان کو کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے گرفتار کیا گیا ہے جس کے قبضے سے ایک کلاشنکوف اور ایک خود کُش جیکٹ بھی برآمد ہوئی ہے۔

کراچی سے نامہ نگار حسن کاظمی کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ملزم کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کراچی کے امیر خان زمان محسود گروپ سے ہے جو کراچی میں طالبان کی جانب سے دہشت گردی اور خودکُش حملوں کی کئی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم مسعود الرحمان کا تعلق ضلع ٹانک کے علاقے سراروغہ سے ہے اور وہ دارالعلوم شوغیہ کوٹکی سے فارغ التحصیل ہے جو اردو ، پشتو ، عربی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔

پولیس کے مطابق اس کی دو ہزار چار سے بیت اللہ محسود سے بہت دوستی تھی اور اسی وجہ سے دو ہزار آٹھ میں بیت اللہ محسود نے اسے سراروغہ کا امیر بنا دیا تھا جہاں طالبان جرگے کے فیصلے اس کی زیرِ نگرانی ہوتے تھے۔

بیت اللہ کی ہدایت پر مسعود الرحمان نے کئی بار افغانستان میں نیٹو اور امریکی فوجیوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں میں بھی حصہ لیا جبکہ مٹہ کے علاقے میں پاکستان فوج کے قافلوں پر کیے جانے والے کئی حملوں میں بھی ملوث تھا۔ مسعودالرحمان پر اپنے کئی مخالفین کو اغواء کر کے قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔

ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان فیاض خان کے مطابق وزیرستان میں فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کی وجہ سے یہ کراچی منتقل ہوگیا۔ جہاں اس کے ذمہ پشتون برادری کے کاروباری افراد سے بھتہ وصول کرکے دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے رقم فراہم کرنا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ یہ رقوم سہراب گوٹھ میں حوالے کا کام کرنے والے شخص شہزاد گُل کے ذریعے وزیرستان میں عبدالعزیز نامی شخص کو بھیجی جاتی تھیں۔

پولیس کے مطابق مسعود الرحمان نے مزید بتایا ہے کہ کراچی میں طالبان کی زیادہ تر پناہ گاہیں سہراب گوٹھ، اتحاد ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، سلطان آباد، کنواری کالونی اور لانڈھی ہیں جبکہ کراچی میں بیت اللہ محسود کا زیادہ تر آنا جانا فیض محسود اور عبدالکلام محسود کے پاس ہوتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش ابھی جاری ہے۔

اسی بارے میں