جنرل میٹیز کے دورۂ پاکستان کی تصدیق

جنرل جیمز میٹیز  اور جنرل خالد شمیم وائیں تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل جیمز میٹیز نےچئرمین جوائنٹ چییفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں سے ملاقات کی

پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے ایک روز بعد تصدیق کی ہے کہ امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جیمز میٹیز نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور چئیرمین جوائینٹ چییفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اتوار کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ‘جنرل جیمز نے دونوں جنرلوں سے پاک امریکی فوجی سرگرمیوں، افغانستان میں اتحادی مہم اور وسیع تر علاقائی امور پر معمول کی بات چیت کی’۔

بیان میں کہا گیا ہے ‘فوجی رہنماؤں نے پاک امریکہ تعلقات میں درپیش حالیہ چلینجوں پر بھی پر تکلف تبادلہ خیال کیا گیا’۔

تاہم بیان کے مطابق جنرل میٹیز نے پاکستان اور افغان عوام کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سلامتی کے لیے بین الاقوامی سلامتی کی کوششوں میں پاکستان کی فوج کے اہم کردار کو سراہا ہے اور خطہ میں امریکہ ، پاکستان اور دیگر ملکوں کی افواج کے درمیان مسلسل روابط کی ضرورت پر زور دیا۔

لیکن اس بیان میں افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجوں کے خلاف سرگرم حقانی نیٹ ورک کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی اتوار کو ایک مختصر بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنرل جیمیز میٹیز نے پاکستان کی فوج کے چئیرمین جوائینٹ چییفس آف سٹاف کمیٹی (سی جے ایس سی) جنرل خالد شمیم وائیں سے ملاقات کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فوجی رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات اور علاقے کے محل وقوع سے پیدا ہونے والی صورت حال پر بات چیت کی۔

بیان کے جنرل وائیں نے امریکہ سے آنے والے حالیہ ‘منفی بیانات’ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل خالد شمیم وائیں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اختلافات کو دور کیا جانا چاہیے جو ایک پیچیدہ صورت حال کا نتیجہ ہیں۔

فوج کے بیان میں کہا گیا ہے جنرل وائیں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ‘پاکستان کی فوج دائمی امن کے حصول کے لیے پرعزم ہے جو صرف باہمی اعتماد اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے’۔

اسلام آباد میں نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ امریکی سفارت خانے اور پاکستان کی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجوں کے خلاف سرگرم اس حقانی نیٹ ورک کا کوئی حوالہ نہیں جو پچھلے کئی روز سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے اور جس کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ امریکی حکومت اس معاملے کو پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے

اس بیان میں امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جیمز میٹیز نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کے درمیان ملاقات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

اسی بارے میں