گمشدہ افراد، ورثاء کو معاوضہ دیا جائیگا

فائل فوٹو
Image caption لاپتہ افراد سے متعلق عدالت میں بہت سی درخواستیں دائر کی گئي ہیں

پاکستان کی حکومت نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے جانےوالے کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

گمشدہ افراد کے ورثاء کو مالی معاوضہ دینے سے متعلق بنائی جانے والے کمیٹی نے چھ افراد کے ورثاء کو مالی معاونت فراہم کرنے کو بھی منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والے امریکی فوجی آپریشن سے متعلق بنائے جانے والے اعلی اختیاراتی کمیشن کے بھی سربراہ ہیں۔

جسٹس میاں شاکراللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاپتہ افراد سےمتعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی تو ایڈشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو ان افراد کی بازیابی سے متعلق کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا نوٹیفکیشن جلد ہی جاری کیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کمیشن کے دائرہ کار میں وسعت بھی کی جائیگی۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل نے لاپتہ افراد سے متعلق ایک رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی ہے تاہم اس کے مندرجات پڑھ کر نہیں سُنائے گئے۔

Image caption بعض ورثاء کو معاضہ دینے کو منظوری دی گئی ہے لیکن رقم کا تعین نہیں ہوا ہے

لاپتہ افراد سے متعلق مزید درخواستیں بھی عدالت میں دائر کی گئی ہیں عدالت نے ان درخواستوں سمیت دو سو چون افراد کی کمشدگی سے متعلق معاملات کو کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔ ان میں سے پچیس افراد کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے بتایا جاتا ہے۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ اُن کے شوہر مسعود جنـجوعہ زندہ ہیں اور وہ اس ضمن میں عدالت میں ثبوت بھی پیش کرسکتی ہیں۔

یاد رہے کہ گُزشتہ سماعت کے دوران ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ مسعود جنجوعہ کو شدت پسندوں نے افغانستان میں قتل کردیا تھا۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ وہ اس ضمن میں انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اُن سے ملاقات کرنے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔

درخواست گُزاروں کی استدعا پر عدالت نے متعدد مقدمات میں جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور عدالت نے ایڈشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ عدالت میں یہ بھی بتائیں کہ اس مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں کن کن اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے ورثاء کو مالی معاونت سے متعلق جو کمیٹی بنائی گئی ہے اُس نے چھ کیسز میں ورثاء کو مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔

لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان خاندانوں کو کتنی مالی امداد دی جائے گی۔

اسی بارے میں