’وہ تو گھر چلے گئے، گھنگرو قوم کو پہنا گئے‘

Image caption پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ سے تعلقات میں کشیدگی کے معاملے پر پاکستان کی سیاسی قیادت بظاہر قومی سطح پر متحد ہونے کا تاثر تو دے رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مغربی الزامات کا مقابلہ للکار اور نعرے بازی سے ہوسکتا ہے یا پھر اندرون خانہ بھی اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔

اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے قائدین بیرونی دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں یہ تو واضح نہیں، لیکن یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت ریاستی اداروں، خصوصاً فوج پر اپنی حب الوطنی ضرور ثابت کرنا چاہتی ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے رہنماء شیخ رشید تو فوج پر شدت پسندی کی سرپرستی کے مغربی الزامات کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ سارے شدت پسند ہم نہیں لائے، ’وہ‘ ہی انیس سو اسی میں چھوڑ کر گئے ہیں۔ فوج یہ نہیں کہہ رہی کہ شمالی وزیرستان میں کارروائی نہیں کرے گی۔ فوج اتنے لمبے عرصے تک امریکہ کے ساتھ مل کر روس کے ساتھ لڑتی رہی، ممکن ہے کہ چھوٹے افسران کے تھوڑے بہت تعلقات ہوگئے ہوں شدت پسندوں سے۔

لیکن شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان کے لیے بھی پالیسی درست کرنے کا وقت آگیا ہے۔ یا تو ہاتھ آسمان تک پہنچائیں، یا پاؤں زمین پر رکھیں۔ غلطی ہے تو اعتراف کرے، الزام ہے تو مسترد کرے۔ نیٹ ورک تو دونوں طرف ہے۔ یہ کہنا کہ سفارتخانے پر حملے کروانے کے لیے استعمال کیا غلط ہے۔ ’سب مجاہد امریکہ نے پیدا کیے، تربیت دی، کام ہوگیا تو اپنا طبلہ سارنگی اٹھا کر وہ تو گھر چلے گئے، گھنگرو قوم کو پہنا گئے۔‘

مسلم لیگ نون کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید کی رائے تھی کہ سیاسی قیادت کو اتحادیوں کی ناراضگی کی وجہ جاننی چاہیے۔

’گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سارے امریکی ایک تھے، ہم بھی برے وقت میں ایک ہیں اور ہونا چاہیے۔ لیکن جس اتحادی کے ساتھ مل کر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں نقصان اٹھا رہے ہیں وہ ہم سے گلے شکوے کیوں کر رہا ہے کون اس کا ذمہ دار ہے۔ پالیسی میکرز، پارلیمان، سیاسی جماعتوں کو ان سوالوں کے جواب دینے چاہیے۔ حقانی گروپ کے ساتھ جن تعلقات کی جانب اشارہ وہ کرتے ہیں ان میں کس حد تک حقیقت ہے۔

’ہم امریکیوں کو کیوں یہ سمجھانے میں ناکام ہیں کہ ہم ان کارروائیوں کے حصہ دار نہیں جن کا الزام ہم پر ہے۔ ہم طویل عرصے تک امریکیوں کے ساتھ مل کر ایسے کھیلوں کا حصہ رہے، ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔ اصلاح احوال کرنا چاہیے۔ ایسے لوگوں سے چھٹکارا تو ہمارے مفاد میں ہے۔ پاکستان کی پالیسی، اعلانیہ پالیسی تو یہ ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔‘

امیر جماعت اسلامی منور حسن کا خیال ہے کہ مغربی الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں اور پاکستانی فوج کے امریکہ سے رابطوں کے خاتمے تک نہ اصلاح کی ضرورت ہے نہ فائدہ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ہیں تو امریکہ اور نیٹو کو ڈوب مرنا چاہیے۔ ایبٹ آباد کا کوئی ثبوت نہیں نہ زندہ، نہ مردہ۔ جھوٹے ملک اور جھوٹی فوج سے رابطے کے بعد اصلاح اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک رابطے ختم نہ ہوجائیں۔

حکمراں اتحاد میں شامل جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنماء کامل علی آغا نے فوج اور آئی ایس آئی پر امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پاکستان پر افغاستان سے جو حملے ہو رہے ہیں وہ کون کروا رہا ہے۔ پاکستان نے پینتیس ہزار جانوں کی قربانی دی، حقانی قبیلہ پاکستان کا حصہ ہے، انہیں یہاں رہنے کا حق ہے، اگر وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں تو امریکہ ثبوت دے۔‘

پاکستان کی فوج کے شدت پسندوں سے رابطوں کے الزامات، پاکستان میں شدت پسندوں کی گرفتاری سے یہاں ان کی موجودگی کا ثبوت، اور شدت پسندوں سے تعلقات کے الزامات کے تحت خود فوجی افسروں سے حکام کی پوچھ گچھ سے متعلق سوال کے جواب میں کامل علی آغا نے کہا کہ ہوسکتا ہے کچھ حقائق ہوں، مگر زیادہ تر الزامات ہی ہیں۔

’ابھی تک تو اسامہ بن لادن کا پاکستان میں وجود بھی ثابت نہیں ہوسکا۔ ہم کیوں اپنی فوج کے خلاف بات کریں۔ ہم کیوں نہ ان قوتوں کے خلاف بات کریں جنہوں نے سالہاسال اس جنگ میں دھکیلے رکھا جو ہماری جنگ نہیں تھی۔‘

لیکن کامل علی آغا نے یہ نہیں بتایا کہ جنگ کے آغاز پر پاکستان کے فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے فیصلے سے پاکستان اس جنگ کا حصہ بنا تو اس وقت کس کس جماعت نے جنرل مشرف کا ساتھ دیا تھا۔

اسی بارے میں