یونیورسٹی اساتذہ کی ہڑتال ختم

پشاور یونیورسٹی
Image caption گزشتہ سال سیلاب اور مغوی وائس چانسلر اجمل خان کی بازیابی کے لیے تمام یونیورسٹیوں کو بند کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں یونیورسٹی اساتذہ کی تنظیم فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے گورنر کی جانب سے یقین دہانی کے بعد اپنے مطالبات کے حق میں تین روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم یونیورسٹی کے کلاس فور اور کلاس تھری ملازمین نے ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فپواسا خیبر پختون خوا چیپٹر کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد طیب نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ اتوار کو ان کی تنظیم کے ایک وفد نے گورنر خیبر پختون خوا بیرسٹر مسعود کوثر سے ملاقات کی تھی جس میں اساتذہ کے تمام مطالبات ان کے سامنے پیش کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر کی یقین دہانی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اساتذہ نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اساتذہ کی تنخواہوں کے بقاجات کا معاملہ بھی حل ہوگیا ہے اور چند ماہ میں ان کو تمام بقایاجات ادا کردیے جائیں گے۔

تاہم یونیورسٹی کے کلاس تھری اور کلاس فور ملازمین نے بقاجات کا معاملہ حل نہ ہونے پر صوبہ بھر میں ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کلاس تھری اور کلاس فور یونیورسٹی ایمپلائیز فیڈریشن کے صدر عبدالاحد نے بتایا کہ ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ انھیں تنخواؤں کے بقاجات ادا کردیے جائیں گے لیکن تاحال یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی نوٹفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انتظامیہ کی طرف سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوتا اس وقت تک ان کی ہڑتال صوبہ بھر میں جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ تین دن قبل یونیورسٹی اساتذہ اور ملازمین نے وفاقی حکومت کی طرف سے تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کے اعلان پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے صوبہ بھر میں تمام سرکاری جامعات میں تدریسی عمل رک گیا تھا۔ ہڑتال کے فیصلے کو یونیورسٹی کے طلبا تنظیموں نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا ارو اس کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں