باجوڑ میں جھڑپ تین ہلاک

Image caption حملے میں امن لشکر کے دو افراد ہلاک ہوئے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں کے ایک حملے میں طالبان مخالف امن لشکر کے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ جوابی حملے میں ایک شدت پسند بھی مارا گیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے ایک پولیٹکل اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب مسلح عسکریت پسندوں نے پاک افغان سرحد عبور کرکے صدر مقام خار سے چند کلومیٹر دور تحصیل سالارزئی کے علاقے مندال میں طالبان مخالف امن لشکر کے افراد پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں لشکر کے دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے جبکہ قبائلی لشکر کے جوابی حملے میں ایک شدت پسند بھی مارا گیا۔

ان کے مطابق مارے جانے والے شدت پسند کی لاش قبضہ میں لے کر بعد میں امانتاً دفن کردی گئی ۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چند ماہ سے سرحد پار سے سکیورٹی فورسز اور امن لشکروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اب تک اس قسم کے چھ حملے کئے گئے ہیں جس میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ باجوڑ ایجنسی میں عید الفطر کے روز بیس کے قریب طلباء کو بھی اغواء کیا گیا تھا جنھیں تاحال بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔ان واقعات کی ذمہ داری باجوڑ کے طالبان وقتاً فوقتاً قبول کرتے رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ باجوڑ اور دیر کے اضلاع میں سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر حکومت پاکستان اور فوج کی طرف سے شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا جبکہ ایک دو مرتبہ افغان حکومت اور نیٹو فورسز سے باقاعدہ طورپر احتجاج کرکے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ان حملوں کو روکنے کےلیے عملی اقدامات کرے۔

یادرہے کہ دو دن قبل افغانستان کے حکام نے پاکستان کی فوج پر سرحد پار سے افغان علاقے میں سینکڑوں مارٹر اور راکٹ فائر کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں