سپریم کورٹ کی سائٹ ہیک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نامعلوم افراد نے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کو ہیک کرلیا ہے اس کے علاوہ وہاں پر ایک پیغام بھی چھوڑا ہے جس میں چیف جسٹس سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قابل اعتراض مواد دیکھانے والی ویب سائٹس سے متعلق از خود نوٹس لینے کے مطالبہ کیا ہے۔ ہیکرز نے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بعض قابل اعتراض پیغامات بھی چھوڑے ہیں۔

گُزشتہ برس بھی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ ہیک کر لی گئی تھی جس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرکے کارروائی کی تھی۔

سپریم کورٹ کے ایک اہلکار کے مطابق ہیکرز نےسپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر پیغام چھوڑا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے قابل اعتراض مواد دیکھانے والی ویب سائٹس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ کو ایسی ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

ہیکرز نے اپنے پیغام میں چیف جسٹس سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا بھی نوٹس لیں کہ لوگوں کو ایک وقت کی روٹی بھی دستیاب نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار قاضی ساجد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ادارے کی ویب سائٹ ہیک ہونے سے متعلق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے ایف آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس سے قبل گُزشتہ برس تیس ستمبر کو بھی اس ادارے کی ویب سائٹ کو ہیک کیاگیا تھا اور ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرکے صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کوگرفتار کیا تھا۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے ہی ان افراد کی ضمانت منظور کی تھی۔

اُدھر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے اہلکاروں نے ابتدائی طور پر اُنہی افراد سے تفتیش شروع کردی ہے جنہیں پہلے درج ہونے والے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں