’امریکی حملے کی صورت میں مقابلہ کریں گے‘

Image caption مبصرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو ان کا پہلا ہدف وزیرستان ہی ہوگا۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد اب بظاہر پوری دُنیا کی توجہ حقانی نیٹ ورک کی آماجگاہ سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان پر مرکوز ہورہی ہے۔ لیکن وزیرستان میں جاری فوجی کارروائیاں اور ڈرون حملوں کی وجہ سے لوگوں میں کوئی زیادہ خوف نہیں پایا جاتا۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی الفاظ کی جنگ تشویشناک ضرور ہے لیکن علاقے میں موجود عام لوگوں کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

امریکہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملوں کے علاوہ کئی بار گولہ باری اور فضائی حملے بھی کرچکاہے جس میں شدت پسندوں کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔

لیکن اب اعلٰی امریکی اہلکاروں کے بیانات سے حالات ایسے دکھائی دے رہے ہیں کہ امریکہ شمالی و جنوبی وزیرستان دونوں ہی جگہ پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف پہلے کی نسبت زیادہ سخت کاروائی کر سکتا ہے یا امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرا سکتا ہے۔

تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے جنگجو پاکستان میں موجود نہیں ہیں البتہ ان کے ساتھ رابطے ضرور ہے۔

سات قبائلی ایجنسیوں میں جنوبی و شمالی وزیرستان دو ایسے قبائلی علاقے ہیں جن کو مبصرین طالبان شدت پسند اور حقانی نیٹ ورک کے گڑھ سمھجے جاتے ہیں۔ان دونوں قبائلی علاقے کے سرحد کے اس پار امریکہ کے اڈے بھی موجود ہیں۔

شمالی وزیرستان سے متصل صوبہ پکتیا میں خوست کے قریب امریکیوں کا اڈہ ہے اور جنوبی وزیرستان میں سرحد کے اس پار پکتیکا کی تحصیل برمل کے علاقے مچاداد کوٹ میں امریکیوں کا ایک مرکز ہے اور اکثر اوقات ان کی پاکستانی سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ کے اس طرح کے اڈے دوسرے قبائلی علاقوں کی سرحد کے اس پار موجود نہیں ہیں۔ اب مبصرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو ان کا پہلا ہدف وزیرستان ہی ہوگا۔

شمالی وزیرستان میں رابطہ کرنے پر مقامی لوگوں نے بتایا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی سے علاقے میں کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی کوئی خوف و ہراس کی لہر نظر آتی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اگر امریکہ نے شمالی وزیرستان میں داخل ہونے کی کوشش کی تو وہ بھاگنے کی بجائے مُسلح ہوکر امریکہ کے خلاف لڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے خلاف لڑنا ہی جہاد ہے اور وہ ہر صورت میں اپنی سرزمین کی حفاظت کریں گے۔ البتہ مقامی لوگوں میں کوئی بھی اپنی آواز ریکارڈ کرانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے بتایا کہ وہ امریکہ سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کرتے ہیں۔اگر امریکہ نے حملہ کردیا تو وہ اپنا دفاع جانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ امریکہ سے زیادہ پاکستان کے ہاتھوں ان کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کےمرکزی رہنماء اور مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد کے معاون مُکرم خراسانی نے بتایا کہ (کالعدم) تحریک طالبان پاکستان، پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہے۔

ان کا مؤقف تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کا پہلے سے یہ کہنا تھا کہ امریکہ کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان پر حملے کی صورت میں وہ پاکستان کا ساتھ دیں گے یا نہیں البتہ انہوں نے بتایا کہ ان کی تحریک پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ پاکستانی حکمرانوں کے خلاف ہے۔

دوسری طرف مبصرین کے خیال میں پاکستان جو بھی کرلے اپنے سینکڑوں فوجی وزیرستان میں ہلاک کروالے اور القاعدہ کے مُشتبہ لوگوں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کردے لیکن امریکہ پھر بھی خوش نہیں ہوگا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں میں اضافہ کے بعد حقانی نیٹ ورک کا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ضرور ڈرون حملے کا نشانہ بن جاتا۔

مبصرین کے خیال میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے لوگ گزشتہ تیس سال سے افغان جنگ کی وجہ سے اپنے آپ کو حالت جنگ میں تصور کرتے ہیں۔ باہمی دُشمنیوں کے علاوہ روس کے خلاف مزاحمت طالبان تحریک سے مضبوط جذباتی وابستگی اور موجودہ ڈرون حملوں نے یہاں کے لوگوں میں جنگجو صفات کو مزید فروغ دیا۔

اسی بارے میں