’امریکہ پاکستان پر الزامات عائد کرنا بند کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر آل پارٹی کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے

پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ سے کہا ہے کہ علاقے میں عدم استحکام کا الزام پاکستان پر دھرنے سےگریز کرے اوردہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بیانات ’حیران کن‘ ہیں اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہیے اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ابتدائی کلمات میں مزید کہا کہ پاکستان پر’ڈو مور‘ کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔ ان کے بقول الزام تراشیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوسکتی ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے بارے میں امریکہ اور پاکستان میں اختلافات کے بعد قومی اتفاقِ رائے کے لیے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس جاری ہے۔

پروگرام کے مطابق یہ کانفرنس جمعرات کی دوپہر دو بجے شروع ہونی تھی لیکن سابق وزیرِاعظم میر ظفراللہ جمالی سمیت بعض سیاسی رہنماؤں کی دیر سے آمد کی وجہ سے تاخیر سے شروع ہوئی۔

سیکورٹی کے خدشات کے پیش نظر یہ کانفرنس ’ریڈ زون‘ میں واقع وزیراعظم ہاؤس میں، بند کمرے میں ہورہی ہے۔ حکام کے مطابق انٹیلی جنس حکام اور وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر کانفرنس کے شرکاء کو بریف کر رہے ہیں۔ کانفرنس کی کوریج کے لیے صرف سرکاری میڈیا کو اجازت دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان اور شیخ رشید آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں

مہمانوں کی آمد اور میل جول کے مناظر ریاستی ٹی وی چینل پی ٹی وی سے براہ راست دکھائے جاتے رہے۔ وزیرِ اعظم کی دائیں جانب میاں نواز شریف اور بائیں جانب چوہدری شجاعت کو بٹھایا گیا۔

جمعرات کو کل جماعتی کانفرس سے پہلے بدھ کی رات کو صدر آصف علی زرداری، وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی اور بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات ہوئی ہے۔

ایوانِ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق دو گھنٹے تک جاری ہونے والی ملاقات میں اس وقت ملک کو درپیش مسائل پر بات چیت کی گئی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے تیس سے زیادہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے پچاس سے زیادہ سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ تاہم بلوچستان کی دو قومپرست جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل اور نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس صورت میں وہ کسی حکومت اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت بلوچستان کے مسائل حل کرنے اور بالخصوص سیاسی کارکنوں کے اغوا اور قتل کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف، جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور تحریک انصاف کے عمران خان کے علاوہ سندھ کے مرحوم قوم پرست رہنماء جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس شروع ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نامعلوم وجوہات کی بنا پر صحافیوں سے بات کیے بغیر کانفرنس سے چلے گئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر موجود حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے معاملے پر امریکہ اور پاکستان میں اختلافات کے بعد حکومت نے قومی اتفاق رائے کے لیے یہ کانفرنس بلائی ہے۔

کانفرنس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیراعظم نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔

حکومت کی کوشش ہوگی کہ متفقہ قرارداد منظور کرکے امریکہ کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ پاکستان میں گُھس کر کسی بھی کارروائی سے گریز کرے اور پاکستان کی سالمیت کے سوال پر پوری قوم متفق ہے اور فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

یاد رہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کو حکومت سے شکوہ رہا ہے کہ ماضی میں ڈرون حملے روکنے سمیت مختلف معاملات پر وہ پارلیمان کی متفقہ قراردادیں منظور کرانے کے باوجود بھی ان پر عمل نہیں کرسکی۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف الخیال سیاسی و مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے سرکردہ رہنماؤں کا ایک جگہ اکٹھا ہوجانا بذات خود بہت بڑی بات ہے۔

لیکن اصل بات تو یہ ہوگی کہ اس فورم سے متفقہ پیغام کیا آتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ کانفرنس محض ایک فوٹو سیشن ہوگی۔

اسی بارے میں