آپ بولو ہم کیا کریں !

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نوکوٹ چار اضلاع کے سنگم پر واقع ہے۔

سائیں قدرتی آفت ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ ہم تو ہیں ہی ننگے لیکن اس موقع پر اپنی انتظامیہ اور رہنماؤں کا ننگ پن بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی۔

یہ قولِ زریں نوکوٹ کے اس دوکاندار کا ہے جس کا کاروبار بازار کی چار سو دیگر دوکانوں کی طرح گزشتہ ایک ماہ سے بند پڑا ہے۔ لگ بھگ پندرہ سے بیس کروڑ روپے کے کاروباری نقصان کا خنجر کمر میں پوری طرح پیوست ہے۔ شہر کی بیس ہزار کے لگ بھگ آبادی بے چھت نہ ہونے کے باوجود کمر کمر انتظامی نااہلی میں غوطے کھا رہی ہے۔

نوکوٹ کوئی معمولی قصبہ نہیں۔ بدین ، تھرپارکر ، عمر کوٹ اور میرپور خاص کے چار اضلاع کے سنگم پر موجود یہ تجارتی مرکز پورے تھر کو کیل کانٹے سے آٹے تک ہر ضرورتِ زندگی فراہم کرتا ہے۔

عمر کوٹ کے بعد نوکوٹ ہی سرحد پر تعینات فوجی و نیم فوجی یونٹ کی بنیادی گزرگاہ ہے لیکن بارش بند ہونے کے بیس روز بعد بھی نوکوٹ کا مرکزی بازار پانچ فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ڈیڑھ ماہ قبل جب پہلی بارش ہوئی تو سب سے پہلے مقامی عمل دار بہہ گئے اور حکومتِ سندھ کی نمائندگی کے لئے صرف ایک ایس ایچ او محمد حسن دل اور پانچ چھ سپاہی رہ گئے۔

اگر بارانی تباہی میں کوئی کسر رہ گئی تو وہ ڈھورو نالے میں آنے والی طغیانی نے پوری کردی۔ نوکوٹ صحرائے تھر میں داخل ہونے والے ہزاروں بیراجی پناہ گزینوں کی گزرگاہ بن گیا اور تالپوروں کے قلعے کے اردگرد کے ٹیلوں پر ایک نیا ننگا بھوکا شہر کیا بسا کہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا۔

ہیلی کاپٹر لینڈ کرنے لگے۔ ان میں سے وزیرِ اعلٰی قائم علی شاہ تین مرتبہ اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ نیچے اترے۔ متاثرین میں امید کی روٹی، دلاسے کا شربت، وعدوں کا سالن، ہمدردی کے خیمے اور ہمت کا سیرپ وافر تقسیم ہوا۔

میڈیا کیمروں کو فوٹیج اور آنے والوں کو فوٹو مل گئے لیکن کسی نے قلعے سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوبے نوکوٹ شہر کے اندر محصور بیس ہزار لوگوں سے ملنے کی آج تک کوشش نہیں کی۔ ڈی سی او میرپور خاص سے لے کر وزیرِ اعظم گیلانی تک کسی نے بھی نہیں۔۔۔

وہ تو اچھا ہوا کہ نوکوٹ کے باسیوں نے خود مقامی حکومت سنبھال لی اور شہر کو بیس روز تک زندہ رکھا۔ تھانے میں رہ جانے والے پانچ چھ سپاہیوں نے اپنے طور پر ریلیف اینڈ ریسکیو کی جتنی کوشش ہوسکتی تھی کی۔

فوج نے بھی کشتیوں کے ذریعے ابتدائی دنوں میں کسی حد تک مدد کی لیکن عوامی حکومت کا مرکز شہر کی جامع مسجد قرار پائی۔ مسجد کے خطیب مفتی شجاع الدین نے سب سے پہلے شہریوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی وہ اس وقت نہ ہندو ہیں نہ مسلمان بلکہ صرف مصیبت زدگان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چنانچہ سب سے پہلے بھوک کا مقابلہ کرنا ہے اور نوکوٹ سے گزرنے والے پناہ گزینوں کو بھی کھانا کھلانا ہے۔ مسجد کے اردگرد ایک سو اٹھائیس دیگ روزانہ کھانا بنانے سے آغاز ہوا۔ مسجد کا صحن مسلمانوں اور ہندوؤں کے لئے کھول دیا گیا۔ شہر کو ابتدائی دو تین دن کی لوٹ مار کے بعد مشترکہ دفاعی کمیٹی بنائی گئی اور شہری اپنے اور دوسرے کے لیے جو کرسکتے تھے کرتے رہے۔

اب رفتہ رفتہ شہری انتظامیہ واپس آرہی ہے لیکن نو کوٹ کے مرکزی بازار میں آج بھی ٹریکٹر ٹرالی کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں گزر سکتی۔ یہ ٹرالی بیس روپے کرائے میں آپ کو بازار کے آرپار پانچ فٹ گہرے بدبو دار پانی میں سے گزار کر اتار سکتی ہے۔

تین دن پہلے نکاسیِ آب کے لئے جھڈو ٹاؤن کمیٹی سے چار بڑے پمپ مستعار لیے گئے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جمع شدہ پانی نکال کے پھینکا کہاں جائے کیونکہ بازار کے آرپار گزرنے والی ڈھورو ندی اب بھی لبالب بہہ رہی ہے۔ اگر یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے تو دوسرا مسئلہ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ ذرا توجہ درکار ہے۔۔۔

میں نے نکاسیِ آب کے ذمہ دار ایک اہلکار سے پوچھا نوکوٹ بازار میں کھڑا پانی کب تک خشک ہوجائے گا۔ کہنے لگا آدھا بازار ضلع میرپور خاص کی حدود میں ہے اور آدھا ضلع مٹھی کی حدود میں آتا ہے۔ ہم آدھے بازار سے تو پانی بارہ گھنٹے میں نکال سکتے ہیں لیکن باقی آدھے کا کیا کریں جو ہماری انتظامی حدود سے باہر ہے۔

میں یہ دلیل سن کر تقریباً باؤلا ہوگیا۔اہلکار نے میری مشکل مزید آسان کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو ڈھورو ندی پر آپ کو بیس فٹ کا پل نظر آرہا ہے یہاں تک کی دوکانیں میرپور خاص ضلع کی حدود میں ہیں اور پل سے اس طرف کی دوکانیں مٹھی ضلع کی حدود میں ہیں۔اب آپ ہی بتایے ہم کیا کریں جب تک دونوں اضلاع کی انتظامیہ مل کر کوئی فیصلہ نہیں کرتیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ پل کے دوسری طرف کی سب دوکانیں ڈھورو ندی کے اندر ہیں۔ یہ جگہ سرکاری نقشے میں ندی ہے لیکن میر وقار تالپور نے اس کے اندر دوکانیں بنا کر بیچ دیں۔ یہ تقریباً دو سو دوکانیں ہیں۔اس کے علاوہ آپ بازار کے پیچھے وہ جو مکانات ڈوبے ہوئے دیکھ رہے ہیں یہ وقار کالونی ہے۔ یہ بھی ندی کے پاٹ پر بنائی گئی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آج نوکوٹ کے بازار میں ایک قطرہ پانی بھی نا ہوتا۔

چلو یہ بھی ٹھیک تھا مگر آگے کی طرف ارباب رحیم کے بھائی ارباب زکا اللہ کی زمینیں ہیں ۔ان کے لوگوں نے زمینیں بچانے کے لئے مٹھڑاؤ نہر سے نکلنے والی رن شاخ کے ریگولیٹر بند کردیے۔ لہذا نہر کا پانی بھی آگے نہ جا سکا۔

پیچھے ڈھورو ندی کے بہاؤ میں ایک رکاوٹ حیات رند والوں کا بند ہے۔ ابھی یہ سب کلئیر ہو تو نوکوٹ کا مسئلہ بھی حل ہو۔ بغیر اس کے پانی نکل بھی جائے تو اگلے سال پھر یہی مسئلہ ہوگا۔ ابھی آپ بولو ہم کیا کریں۔ آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہو ۔چائے پلاویں کیا آپ کو ؟؟

اسی بارے میں