’حقانی کے عسکری شاخ سے رابطہ نہیں‘

عمران خان اور شیخ رشید تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان اور شیخ رشید کی جماعتوں کا قومی اسمبلی میں کوئی رکن نہیں ہے تاہم یہ اے پی سی میں شریک تھے

پاکستان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ نے پاکستان کی فوجی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کا افغانستان میں برسرپیکار حقانی نیٹ ورک کے عسکری شاخ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی دعوت پر بلائی گئی کُل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہویے کہا ’آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع پاشا نے ہمیں مکمل بریفنگ دی، حقانی نیٹ ورک کے تین شاخیں ہیں‘ حقانی کے عسکری شاخ کے ساتھ آئی ایس آئی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ اور شاخیں ہیں جن کے ذریعے صرف بات چیت ہوسکتی ہے‘۔

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی دعوت پر جمعہ کو کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کی لگ بھگ تیس سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

گیارہ گھنٹے جاری رہنے والی یہ کانفرنس رات گئے ختم ہوئی۔

اس کانفرنس کا مقصد پاکستان کی فوجی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجوں کے خلاف برسرپیکار حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطوں کے بارے میں امریکی الزامات پر غور کرنا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ اس کانفرنس میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے بات چیت اور امن پر زور دیا گیا۔

’وقت آگیا ہے امن کا، امن کو موقع دیا جائے‘ سات سال ادھر( پاکستان میں) اور دس سال ادھر(افغانستان میں) فوجی کارروائی ہوئی، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا بلکہ اور دلدل میں پھنس رہے ہیں‘۔

پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کُل جماعتی کانفرنس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی فوج یا آئی ایس آئی کا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیخ رشید نے کہا ’اگر حقانی نیٹ ورک کے سیاسی سیل کے ساتھ کوئی بات چیت کر رہے ہیں تو وہ قیام امن اورافغانستان کے مستقبل کے لیے ہے‘۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ اس کانفرنس میں یہ اتفاق ہوا کہ پاکستان کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے کہا ’پاکستان پُر امن ملک ہے اور پاکستان ملک کے اندر اپنے لوگوں سے بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتا ہے اور دنیا کو ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم دنیا میں امن کے عملبردار ہے اور اس کے لیے ہم نے ہزاروں جانیں دی ہے‘۔

اسی بارے میں