بھارت کے فیصلے کا خیرمقدم

Image caption پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سالانہ تجارتی حجم سات ارب ساٹھ کروڑ یوروز ہے۔

یورپی یونین نے پاکستان کو دی جانے والی تجارتی رعایت پر بھارت کی طرف سے اعتراض نہ کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان میں یورپی یونین کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بہت ہی مثبت قدم ہے کہ بھارت نے یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی تجارتی رعایت پر اعتراض نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ یورپی یونین نے گزشتہ برس آنے والے بدترین سیلاب کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً پچہتر مصنوعات میں چھوٹ دی تھی لیکن بھارت نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس کی وجہ سے یورپی یونین نے وہ تجارتی رعایت روک لی تھی۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق پاکستان میں یورپی یونین کے نمائندے لارس گنر ویگ مارک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا یہ فیصلہ پاکستان کے متاثرینِ سیلاب کے لیے بہت اہم ہے۔

بیان کے مطابق بھارتی فیصلے کے بعد یورپی یونین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں پاکستان کو دی جانے والی تجارتی رعایت کا طریقے کار پھر سے شروع کرے گی اور یورپی یونین اس حوالے سے قانون سازی کے طریقے کار پر بھی کام شروع ہو جائے گا۔

یورپی یویین کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سات نومبر کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن کا اجلاس ہوگا جس میں پاکستان کو دی جانے والی تجارتی رعایت پر بحث ہوگی اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سالانہ تجارتی حجم سات ارب ساٹھ کروڑ یوروز ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے بدھ کے روز یورپی یونین کی اس سکیم کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے ایکسپورٹ کیے جانے والے کپڑے پر ڈیوٹی کی شرح میں رعایتیں دینے کی تجویز ہے۔

بھارت کے وزیرِ تجارت آنند شرما نے اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم امین فہیم سے دلی میں بات چیت کے بعد یہ اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے بھارت اس سکیم کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

وزارء نے اپنی بات چیت میں باہمی تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا اور اپنی وزارت کے سیکریٹریوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ ترجیحی بنیادوں پر تجارت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک نقشۂ راہ تیار کریں۔

بھارت کافی عرصے سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان اسے تجارت کے معاملےمیں خصوصی مراعت یافتہ ملک یعنی ایم ایف این کا درجہ دے لیکن اس بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں نے ایک مخصوص مدت کے اندر تجارت کی راہ میں وہ تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کا محصول یا ڈیوٹی کی شرح سے تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں