جھڑپوں میں چالیس شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption چند مہینوں سے لوئیر دیر، دیر اپر اور چترال کے اضلاع میں سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئیر دیر میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم چالیس عسکریت پسند جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ اپر اورکزئی ایجنسی کے علاقے ڈبوری سے چند کلومیٹر دور خیبر ایجنسی کے سرحد پر واقع آرہنگہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی میں دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں فوج کا ایک جوان بھی ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ کارروائی میں عسکریت پسندوں کے پانچ ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آرہنگہ کا علاقہ شدت پسندوں سے مکمل طور پر صاف کر دیاگیا ہے اور اب وہاں سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ آرہنگہ اورکزئی اور خیبر ایجنسی کا ایک سرحدی علاقہ ہے۔ اسی راستے کو شدت پسند ایک سے دوسری ایجنسی میں جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ دو تین سالوں سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ابھی تک علاقہ مکمل طور پر کلئیر نہیں کیا جا سکا ہے۔

لوئر دیر میں جھڑپیں

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئیر دیر میں فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دراندازی روکنے کے لیے کی گئی کارروائیوں میں تیس سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کرنل عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز پاک افغان سرحدی علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم کر رہیں تھیں کہ اس دوران ان پر سینکڑوں عسکریت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی حملے میں تیس سے زائد شدت پسند مارے گئے تاہم مقامی اور آزاد ذرائع سے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ دیر سے لے کر چترال تک کی سرحدی پٹی پر اب سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور کسی شدت پسند کو پاکستان کے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

یاد رہے کہ چند مہینوں سے لوئیر دیر، دیر اپر اور چترال کے اضلاع میں سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے ان حملوں کو روکنے کےلیے حال ہی میں اس سرحد پر فوج کے ریگولر دستوں کو تعینات کیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دو دن قبل فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان میں سرحد پار سے حملوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوج کو ان حملوں کا بھرپور جواب دینے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں