سندھ: مویشیوں کی چوری سے پریشان متاثرین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق دس ہزار سے زیادہ مویشی چوری ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کو جہاں ایک طرف خوراک اور دیگر امدادی سامان کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے تو وہیں سیلاب سے بچ جانے والے مویشیوں کی چوری نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ضلع ٹنڈو محمد خان میں مقامی پولیس کے مطابق اب تک سیلاب کے متاثرہ افراد کے چار سو سے زائد مویشی چوری ہو چکے ہیں جن میں بھیڑ بکریوں کے علاوہ گائے اور بھینسیں بھی شامل ہیں۔

جانور چوری کے سب سے زیادہ واقعات مذکورہ ضلعے کی تحصیل ٹنڈو غلام حیدر میں ہوئے ہیں جن کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے۔

مویشیوں کے لیے مچھردانیوں کی مانگ

اس علاقے کی مویا یونین کونسل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص غلام رسول کا کہنا ہے کہ سیلاب میں اُس کے چار جانور پانی میں بہہ گئے جبکہ وہ اپنے اہلخانہ اور پانچ جانوروں کو لےکر سڑک پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ان جانوروں میں سے بھی دو گائے اور ایک بکری چوری ہوگئی ہے جس کے بارے میں اپنے تئیں معلوم تو کیا ہے لیکن اُس کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔

یہ صورت حال صرف اسی ضلعے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ضلع بدین میں مویشی چوری ہونے کے واقعات اس سے بھی زیادہ ہیں۔

مویشیوں کی چوری کے سب سے زیادہ پانچ سو واقعات تحصیل ماتلی اور پنگریو میں رپورٹ کیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزاکے شوہر اور سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی شوگر مل بھی اسی علاقے میں قائم ہیں۔

ماتلی کے ایک رہائشی اعظم سموں کا کہنا تھا کہ سیلاب میں جہاں اُس کا گھر پانی کی نذر ہوگیا تو وہاں دوسری طرف چوروں نے اس کے کل بچ جانے والے اثاثے ایک گائے اور دو بکریوں سے بھی محروم کر دیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ سڑک کے کنارے بیٹھا تھا کہ رات کے وقت چور آئے اور اُس کی گائے اور دو بکریاں چُرا کر لے گئے۔

اعظم سموں کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اس واقعہ کی رپورٹ علاقے کے وڈیرے کو کی ہے جنہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس کی رپورٹ تھانے میں درج کرائیں گے تاہم ابھی تک پولیس نے اُن سے رابطہ نہیں کیا۔

متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ سیلاب کے پانی کی وجہ سے چوروں کا کُھرا (پاؤں کے نشانات) بھی نہیں مل سکتا۔

تلہار کے ایک رہائشی خدا بخش دھاریجو کا کہنا تھا کہ ’سیلاب کے پانی نے تھوڑا ظلم کیا ہے کہ اب چوروں نے بھی ہماری مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے اِدھر کا رخ کر لیا ہے۔‘ اُنہوں نے کہا کہ چور اُن کے چار مویشی چُرا کر لے گئے ہیں۔

خدا بخش کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے متعلق وہ جب متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کروانے کے لیے گئے تو اُن کی کوئی شُنوائی نہیں ہوئی بلکہ پولیس کا کہنا تھا کہ’جا کر خود تلاش کریں ادھر اُدھر ہی پھر رہے ہوں گے یا پھر کسی کے کھیتوں میں چلے گئے ہوں گے۔‘

خدا بخش کے بقول اُن کے علاقے میں کھیتوں میں ابھی تک چار سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ صبح کے وقت اپنے اور اہلخانہ کے لیے امدادی خوراک کے حصول کے لیے جبکہ رات کے وقت جانوروں کی حفاظت کے لیے جاگنا پڑتا ہے۔

غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے دس ہزار سے زیادہ مویشی چوری ہو چکے ہیں۔

سندھ حکومت کے مطابق سیلاب سے پونے دو ارب روپے مالیت کے اکانوے ہزار مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ مویشی مٹھی ضلع میں ہلاک ہوئے ہیں جن کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ ہے تاہم حکومت نے چوری ہونے والے مویشیوں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔

ضلع بدین کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہاں پر اعلیٰ شخصیات کے نقل و حرکت ہی اتنی زیادہ ہے کہ پولیس اہلکار سکیورٹی کے امور انجام دینے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کر رہے۔

اسی بارے میں