اے پی سی: آئی ایس آئی پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عمران خان نے اعلامیہ کے متن پر اعتراض کیا اور کہا کہ اپنے لوگوں سے بات چیت شروع کی جائے

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نےجو گزشتہ روز کل جماعتی کانفرنس بلائی اس میں محمود خان اچکزئی اور میاں نواز شریف نے فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار پر کھل کر تنقید کی۔

اجلاس میں شریک بعض سیاسی رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان کے پشتون قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی نے ایک موقع پر آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ساری خرابیوں کی ذمہ دار آئی ایس آئی ہے اور اگر یہ (جنرل پاشا) سچے ہوں تو ایک ماہ کے اندر افغانستان میں اگر امن قائم نہ ہو تو میرا نام بدل دیں۔

محمود خان جو اپنی نشست پر سے بولنے کے بجائے روسٹرم پر آئے، انہوں نے فوج اور آئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسیاں فوج اور آئی ایس آئی بناتی ہیں۔ ان کے بقول جب تک یہ پالیسیاں پارلیمان نہیں بنائے گی تب تک اس خطے میں امن قائم نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب پاکستان ٹوٹا تو کسی کو کچھ نہیں ہوا، بارہ مئی کو کراچی میں گولیاں برسائی گئیں پچاس سے زیادہ بے گناہ لوگ مارے گئے لیکن کسی کو ذمہ دار نہیں ٹہرایا گیا۔ اسامہ بن لادن کیسے یہاں آئے اور وہ کاکول اکیڈمی میں آرمی چیف کی رہائش گاہ کے چند سوگز پر کیسے مقیم تھے، کچھ پتہ نہیں۔ اگر ہماری انٹیلیجنس اور فوج کو ان کے بارے میں پتہ نہیں تھا تو پھر یہ ادارے بیکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق کانفرنس شروع ہونے سے قبل ہی ہال میں آئی ایس آئی کے چیف جنرل پاشا محمود خان اچکزئی سے باتیں کرتے رہے لیکن محمود خان نے انہیں کہا کہ وہ انہیں نہیں جانتے لیکن آج انہیں بہت کچھ سنائیں گے۔ جس پر جنرل پاشا مسکراتے رہے۔

وزیراعظم کی تقریر کے بعد جب حنا ربانی کھر اور جنرل پاشا کی بریفنگ مکمل ہوئی تو وزیراعظم نے کہا کہ میاں نواز شریف بولنا چاہتے ہیں۔ جس پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کی طبیعت خراب ہے پہلے انہیں بولنے دیں۔ مولانا نے حکومت اور فوج سے شکوہ کیا کہ ان کی بات کوئی نہیں سنتا اور وہ پہلے دن سے امریکہ کے ساتھ تعاون کی پالیسی کے مخالف رہے ہیں۔

ان کے بعد وزیراعظم نے میاں نواز شریف کو بولنے کے لیے کہا تو محمود خان اچکزئی نے ہاتھ کھڑا کیا۔ وزیراعظم نے انہیں کہا کہ میاں صاحب پہلے بولیں گے۔ اچکزئی نے انہیں کہا کہ میاں صاحب بڑے لیڈر ہیں وہ بعد میں بولیں گے اور انہوں نے اپنی بات شروع کر دی۔

شرکاء کے بقول میاں نواز شریف کافی سنجیدہ رہے اور فوجیوں اور سیاستدانوں سے کافی احتیاط سے ملتے رہے۔ انہوں نے ٹھنڈے مزاج کے ساتھ فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی اور کہا کہ قانون کے مطابق انٹیلیجنس ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہیں لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔

انہوں نےکہا کہ ان کے دور حکومت یا بینظیر بھٹو کے دور میں انٹیلی جنس والے پہلے فیصلہ کرکے عمل کرلیتے اور بعد میں بتاتے تھے کہ یہ ہوگیا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ جب تک ایسا ہوتا رہے گا تو سیاستدان کیسے کردار ادا کرسکیں گے؟ انہوں نے کہا کہ وہ فوج یا انٹیلیجنس اداروں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ سیاست میں ان کا کردار نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے ایک موقع پر جنرل کیانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سن رہے ہیں کہ پرویز مشرف کے دور میں امریکہ سے کوئی خفیہ معاہدے ہوئے ہیں جس کے ہم پابند ہیں۔ ہمیں بتائیں۔جب معلومات نہیں ہوگی تو فیصلے کیا کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انٹیلیجنس والے پہلے فیصلہ کرکےعمل کرلیتے اور بعد میں بتاتے

جس پر جنرل کیانی جو کم گو شخص ہیں انہوں نے لمبی تمہید باندھی اور کہا کہ ’ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کے ہم پابند ہوں۔‘ جس پر میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ قومی سلامتی کے خطرے کے پیش نظر یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اور آنکھ بند کرکے کسی کے پیچھے نہیں چلیں گے۔

میر اسراراللہ زہری نے موضوع پر تو بات نہیں کی البتہ بلوچستان میں بدامنی، اغوا، لوٹ مار اور مار دھاڑ پر بات کی۔ انہوں نے مری اور مینگل سرداروں پر تنقید کی اور کہا کہ بلوچستان چور اور ڈاکو بن گیا ہے۔

عمران خان نے اعلامیہ کے متن پر اعتراض کیا اور کہا کہ اپنے لوگوں سے بات چیت شروع کی جائے اور یہ نکتہ اس میں شامل کریں۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین اور جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے اس لیے نئی پالیسی اسٹیبلشمینٹ کے بجائے پارلیمان بنائے۔

کانفرنس کے آغاز میں جب قومی ترانہ بجایا گیا تو تمام لوگ کھڑے ہوگئے۔ جب ترانہ ختم ہوا تو محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ شاد باد آباد بجا کر سب کو اٹھایا گیا کیا کسی کو یہ یاد بھی ہے۔ کوئی لکھ کر بتا سکتا ہے؟ جس پر متحدہ قومی موومنٹ کے حیدر عباس رضوی نے ہاتھ کھڑا کیا۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنی تقریر انگریزی میں شروع کی تو بعض مذہبی رہنماؤں نے اعتراض کیا کہ انہیں انگریزی سمجھ نہیں آتی۔ جس پر انہوں نے اردو اور انگریزی میں ملی جلی بات کی۔

وزیر خارجہ نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں ہے۔ ان کے بقول ہیلری کلنٹن سے جب ملاقات ہوئی تو وہ ٹھیک تھیں لیکن اگلے روز ان کے لب و لہجہ میں تلخی آگئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چالیس ممالک کے سفیروں اور نمائندوں سے ملی ہیں اور انہیں اپنے موقف کے بارے میں حمایت کے لیے رضا مند کیا۔

حنا ربانی کھر نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان مل کر امریکہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ترکی اور سعودی عرب کے ذریعے بھی امریکہ کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کل جماعتی کانفرنس میں آئی ایس آئی کے سربراہ نے اپنی بریفنگ کا فوکس صرف حقانی نیٹ ورک پر رکھا۔ ان کے بقول مولانا جلال الدین حقانی افغانستان میں پیدا ہوئے لیکن تعلیم اکوڑہ خٹک میں جامعہ حقانیہ سے حاصل کی اور وہاں استاد بھی رہے۔ انہوں نے دو شادیاں کی ہیں اور ان کے بچوں کی تعداد کافی ہے۔ ان کے بقول مولانا حقانی کی ایک بیوی پشتون اور ایک عرب نژاد ہے۔ ان کے کچھ بچے شدت پسند نہیں ہیں اور پاکستان میں پر امن زندگی گزارتے ہیں اور ان سے پاکستان کا رابطہ رہتا ہے۔

جنرل شجاع پاشا کے بقول پاکستان نے آج تک حقانی گروپ کو ایگ گولی یا ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا۔ ان کا افغانستان میں کافی اثر و رسوخ ہے اور وہ افغانستان میں ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانی کافی ضعیف ہیں اور ان کے گروپ کے کمانڈر ان کے بیٹے مولانا سراج الدین حقانی ہیں اور میرانشاہ کے علاقے میں رہتے ہیں۔

جلال الدین حقانی امریکی صدر رونالڈ ریگن کے منظور نظر رہے ہیں اور ان سے امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے رابطے رہے ہیں اور پاکستان اکیلا نہیں ہے۔