طالبان سے مذاکرات پر زور کیوں؟

موجودہ حکمراں پیپلز پارٹی پہلے دن سے پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف ’تھری ڈی’ کی پالیسی پر گامزن رہی ہے۔

ترقی اور طاقت کے علاوہ تیسرا ’ڈی’ یعنی ڈائیلاگ یا مذاکرات تھا۔ اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی یہ ایک الگ موضوع ہے۔ لیکن ان مذاکرات کے لیے ایک شرط پر ہمیشہ حکومت اور فوج نے زور دیا کہ یہ مذاکرات صرف اسی وقت ہوں گے جب شدت پسند ہتھیار پھینک کر تشدد کو خیرباد کہنے کو تیار ہوں گے۔

امریکی بیانات کے تناظر میں کل جماعتی کانفرنس نے جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے اس میں اگر کچھ نیا ہے تو وہ یہی ہے کہ بات چیت کے لیے ہتھیار ڈالنے کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام تر زور مذاکرات شروع کرنے پر ہے۔

ایک دہائی کی لڑائی نے ثابت کر دیا ہے کہ فوجی طاقت چاہیے جتنی اعلیٰ ہو حل کسی بھی مسئلے کا سیاسی طریقے سے ہی نکالنا ہوگا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ تین سال تک افغانستان میں مذاکرات اور مصالحت کے گیت گانے والے افغان اور امریکی کچھ حاصل نہ کر سکے حکومت پاکستان کیا کر پائے گی۔ اس کے پاس کون سا الٰہ دین کا چراغ ہے؟

دو پہلو ہیں جو افغانستان سے مختلف ہیں۔ یہ پاکستان کے حق میں جا سکتے ہیں۔ ایک تو پاکستان امریکہ کی طرح کوئی قابض فوج نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ افغانستان میں طالبان اتحادیوں کی کوششوں کے باوجود طاقتور ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں اس وقت پاکستانی طالبان کمزور ہیں اور زیر زمین جانے پر مجبور ہیں۔

ماضی کے ناکام امن معاہدے

جب سے قبائلی علاقوں میں شورش کا آغاز دو ہزار دو سے ہوا ہے اس وقت کی حکومت نے متعدد مرتبہ مختلف پاکستانی طالبان رہنماؤں کے ساتھ امن معاہدے کیے۔ ان میں ابتدا میں فوجیوں کا جنوبی وزیرستان کے نیک محمد سے بغلگیر ہونا اور بعد میں دو ہزار پانچ میں جنوبی وزیرستان کے ہی محسود علاقے میں بیت اللہ محسود کے ساتھ سراروغہ معاہدہ ہونا دو قابل ذکر اہم معاہدے تھے۔

اس کے علاوہ کئی معاہدے سوات سمیت دیگر علاقوں میں بھی ہوئے لیکن دیر پا کوئی بھی ثابت نہ ہوسکا۔ نیک محمد اور بیت اللہ محسود کو پاکستانیوں نے تو نہیں تاہم امریکی میزائلوں نے ہلاک کر دیا۔ اس مرتبہ بھی امن مذاکرات کی بات تو ہو رہی ہے لیکن اس کا دائرہ کیا ہوگا اور حکومت کس حد تک شدت پسندوں کو رعایت دینے کی مجاز ہوگی یہ واضح نہیں ہے۔ حکومت مذاکرات کے لیے کون سی حدیں متعین کرتی ہے، یہ انتہائی اہم پہلو ہوگا۔

طالبان کی رضامندی

اگر حکومت ان تک مذاکرات کے لیے پہنچتی ہے تو نہ ماضی میں اور نہ شاید اب وہ بات چیت سے انکار کریں گے۔ لیکن جو اصل مسئلہ درپیش آ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ طالبان نے کبھی بھی مذاکرات چند پیشگی شرائط کے منظور ہونے کے بغیر نہیں کئے ہیں۔ ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی حکومت اُن کے پاس امن کی فاختہ لے کر جا رہی ہے وہ حکومت کے پاس بظاہر نہیں آ رہے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح طالبان پاکستانی جیلوں میں قید اپنے سینکڑوں ساتھیوں کی رہائی اور سرحد پار افغانستان میں کارروائی پر روک ٹوک کے خاتمے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ماضی میں حکومت اس پر کسی حد تک رضامند ہوگئی تھی لیکن اس مرتبہ معلوم نہیں کہ ایسا کرنے سے اس پر امریکہ کا کس حد تک دباؤ آ سکتا ہے۔

’ اپنے لوگوں سے‘

اعلامیے میں ’اپنے لوگوں سے‘ مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔ اس کا مقصد اندرون و بیرون ملک دباؤ اور میڈیا کی تنقید سے بچنا ہو سکتا ہے۔ اگر براہ راست طالبان سے مذاکرات کی بات کریں تو تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ اس سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔

دوسرا قبائلی علاقوں میں عام قبائلی تو کب کا اثر و رسوخ کھوچکے ہیں، اپنی آواز کھو چکے ہیں۔ سینکڑوں حکومت حامی ملک ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ تو جس کا وہاں پر کنٹرول ہے بات انہیں سے کی جائے گی نہ کہ کسی بےاختیار شخص سے۔