آئی ایس آئی پر طلال بگٹی کی تنقید

طلال بگٹی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طلال بگٹی نے آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ طلال اکبر بگٹی نے حقانی نیٹ ورک سے پاکستان کے اظہار لاتعلقی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ آئی ایس آئی کے نہ صرف حقانی نیٹ ورک سے رابطے ہیں بلکہ طالبان کو تربیت فراہم کرتے ہوئے انہیں افغانستان میں خود کش حملوں کے لئے تیار کیاجاتاہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعہ کی شام کو کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ طلال بگٹی نے یہ الزام بھی لگایا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ درحقیقت نورا کشتی ہے کیونکہ جنگ ہمیشہ اپنے برابر کے لوگوں کے درمیان ہوتی ہے مگر حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی حیثیت امریکہ کے سامنے بہت جھوٹی ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک سے اظہار لاتعلقی کا بیان حقیقت پر مبنی نہیں، سچائی یہ ہے کہ حقانی گروپ اورآئی ایس آئی کے درمیان تعلقات ہیں نہ صرف تعلقات ہیں بلکہ یہاں سے طالبان کو تربیت دے کر انہیں خود کش حملوں کے لئے تیار بھی کیا جاتا ہے۔

کوئٹہ میں طالبان شوریٰ کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں طلال بگٹی نے شعویٰ کیا کہ آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ اداروں نے انہیں یہاں پناہ دے رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس کے دوران کیےگئے فیصلے اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمنٹ سے مشترکہ قرار داد پاس کی گئی تھی مگر اس کے بیس منٹ بعد ہی پاکستان میں بیس ڈرون حملے کیے گئے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلے پارلیمنٹ سے بالاتر ہوں گے جس ملک میں اسمبلیوں کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرایا جا سکتا ہو وہاں پارلیمنٹ کو کیا اختیار حاصل ہوگا۔

طلال بگٹی نے کہا کہ جمہوری وطن پارٹی کو آل پارٹیز کانفرنس میں دعوت نہ دینے کامقصد یہ ہے کہ اے پی سی میں بیٹھے لوگ حقیقت کاسامنا نہیں کرسکتے اور آمرانہ دور کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو بیرونی اوراندرونی بہت سے خطرات کاسامنا ہے مگر موجودہ حکمرانوں نے بھی اس پر سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیا اور ان کی اس غیر سنجیدگی کا اثر بلوچستان پر براہ راست پڑ رہا ہے۔

آج بلوچستان ان غلط پالیسیوں اور غیرسنجیدگی کی وجہ سے جل رہا ہے بلوچستان کے طول وعرض سے مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں جن کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لوگوں کو سر عام سڑکوں پر ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے لقمہ اجل بنایا جا رہا ہے۔

بلوچستان کے عوام اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں مگرحکمرانوں کے رویوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔

جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان کے بزرگ ‘سیاسی رہنما نواب اکبر خان بگٹی کے قاتل آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں عدالت کے حکم کے باوجود بھی حکمران انہیں تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں سوئی اور ڈیرہ بگٹی کو سکیورٹی فورسز نے نوگو ایریاز بنا رکھے ہیں جس کا واضح ثبوت گزشتہ دنوں حکومت اور وفاقی وزیر داخلہ کے دست راست وڈیرے کی نجی جیل کے حوالے سے ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں بلوچستان کے حالات کے بہتری کے لیے تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو اپنا موثر اور عملی کردار ادا کرتے ہوئے میدان عمل میں آنا ہوگا تا کہ بلوچستان کے مسئلے کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔

اسی بارے میں