سانگھڑ میں حالات سنگین

متاثرین

اگرچہ گزشتہ کئی روز سے بارش تو نہیں ہوئی مگر سندھ کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع سانگھڑ کے کم و بیش تمام ہی علاقے اب تک پانی میں ڈوبے دکھائی دے رہے ہیں۔ شہر کا وسط ہو یا آس پاس کی مضافاتی بستیاں، ہر طرف پانی کھڑا ہے یا پھر گنّے اور کپاس کے کھیت پانی میں ڈوبے دکھائی دے رہے ہیں۔

انسانی امداد کی کوششوں کو مربوط کرنے کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے یو این او سی ایچ اے یا اوچھا کے تحت کئی عالمی امدادی اداروں کے تحت مختلف عالمی اداروں نے کیمپ تو قائم کیے ہیں مگر تباہی و بربادی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے کہ علاقے کی حالت، متاثرین کی شکایات اور امدادی اداروں کی بے بسی دیکھ کر اندازہ یہی ہوتا ہے کہ اگر امدادی سرگرمیاں اسی انداز و رفتار سے جاری بھی رہیں تو بھی مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

کراچی میں نیشنل ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی یا این ڈی ایم اے کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بھرپور امدادی کوششیں جاری ہیں مگر سانگھڑ جیسے علاقے دیکھ کر اور وہاں مسائل و مشکلات کا شکار متاثرین کی شکایات سن کر کچھ اور ہی تصویر سامنے آتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی سرکاری ادارے نے آکر ان کا حال تک نہیں پوچھا۔ امداد تو درکنار ہمدردی کے دو بول نہ بولے۔

Image caption کھیت اور کئی سڑکیں زیر آب ہیں

متاثرین نے شکایت کی کہ بعض جگہوں پر ایک زمین سے پانی نکال کر دوسری میں ڈال دیا گیا۔ سیاسی اثر رسوخ کی بناء پر امدادی کام بھی متاثر ہوا۔ متاثرین نے کہا کہ بااثر زمین داروں نے سیاسی پشت پناہی کی بنیاد پر اپنی املاک اور زرعی زمینیں بچالیں لیکن پانی کا رخ موڑ کر ان کا گاؤں دیہات، مال مویشی، مکانات اور املاک سب ڈوب گیا یا تباہی کی نذر ہوگیا۔

سرکاری ادارے، ضلعی انتظامیہ اور اقوام متحدہ سمیت غیر سرکاری امدادی اداروں کے دستوں کا کہنا ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ نہ صرف متاثرین کو امداد پہنچائی جاسکے بلکہ ان کے علاقوں اور کھیتوں میں جمع پانی کو بھی نکالا جاسکے لیکن لوگوں نے شکایت کی کہ پانی جمع ہوجانے کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی سرپرستی میں بااثر زمین داروں نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے اور پانی کی نکاسی کے ذرائع بند کرکے اپنی زمین و املاک تو بچالیں مگر ان کے گھر اور گاؤں ڈبو دیے۔

بارش کا پانی جگہ جگہ کھڑا ہونے سے صورتحال ابتر ہورہی ہے۔ لوگ اس پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ نکاسی آب کے نظام کی تباہی کی وجہ سے بارش کے اس پانی میں گندہ پانی مل گیا ہے اور یہ نکل نہیں پارہا۔ امدادی اداروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مشین و آلات کی کمی اور مسائل و مشکلات کی زیادتی کی وجہ سے ابھی تو ہفتوں یہی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔

صحت کا مسئلہ سب سے زیادہ شدید ہوچکا ہے۔ جگہ جگہ جمع ہوجانے والے اس پانی سے ہیضہ، ملیریا، جلدی امراض اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ پینے کا پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگ یہی آلودہ پانی پی بھی رہے ہیں اور مزید مشکلات میں گھرتے جارہے ہیں۔

Image caption شہر کا وسط ہو یا آس پاس کی مضافاتی بستیاں، ہر طرف پانی کھڑا ہے

سانگھڑ میں صورتحال اس لیے ابتر ہوچکی ہے کہ مطلوبہ امداد نہ ہوسکنے کے بعد اب لوٹ مار شروع ہوگئی ہے۔ لوگوں نے جگہ جگہ سڑکوں پر رکاوٹ ڈال کر امدادی ٹرک لوٹے ہیں اور ایسے واقعات کے بعد اب حکام نے پولیس کے دو ایس پی افسران مقرر کیے ہیں جن کو پہلے بتا دیا جائے تو امدادی قافلوں کو پولیس کا تحفظ فراہم کردیا جاتا ہے۔

اگرچہ انسانی امداد کے لےے قائم اقوام متحدہ کے ادارے یو این او سی ایچ اے یا اوچھا کے تحت یہاں مختلف عالی اور بین الاقوامی اداروں کی امدادی کوششیں بھی جاری ہیں مگر یوں دکھائی دیتا ہے کہ شاید وہ بھی کافی ثابت نہ ہوسکیں۔

اسی بارے میں