’حلیم اللہ ایک سرکردہ طالبان کمانڈر‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تحریک طالبان پاکستان کے ملا نذیر گروپ کے ایک سر کردہ کمانڈر حلیم اللہ احمد زئی جمعہ کو ایک ڈرون حملے میں اپنے دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل کے علاقے انگور اڈہ میں کیا گیا ہے۔

حلیم اللہ احمد زئی طالبان کے ملا نذیر گروپ میں اہم مقام رکھتے تھے اور وہ افغانستان میں زیادہ متحرک تھے۔

حلیم اللہ احمد زئی وانا کے ایک گاؤں کڑی کوٹ کے رہائشی تھے اور ان کا تعلق توجئے خیل کے ذیلی شاخ مستی خیل سے تھا۔

انھوں نے کچھ عرصے کے لیے وزیرستان میں مولانا نور محمد کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کی لیکن دینی علوم کے تمام درجات مکمل نہیں کیے۔

Image caption حلیم اللہ طالبان کمانڈر ملا نذیر کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے تھے

انھوں نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں متعدد بار حصہ لیا اور شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کی جنگ میں بھی شامل تھے۔

حلیم اللہ نے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے عرب جنگجوؤں کو پناہ بھی دی تھی۔

حلیم اللہ احمد زئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ طالبان کے اجلاس میں حلیم اللہ نے طالبان کے دوسرے کمانڈروں کو بتایا تھا کہ اگر توجئے خیل قبیلے کے کسی فرد کو بغیر کوئی وجہ بتائے کوئی نقصان پہنچا تو آپ سے یعنی طالبان کمانڈر اس کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق ملا نذیر کے ایک قابل اعتماد ساتھی تھے اور ملا نذیر کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے تھے کیونکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ملا نذیر گروپ میں حلیم اللہ کے ساتھی کی کافی تعداد موجود تھی۔

اس کے علاوہ طالبان گروپ میں توجئے خیل قبیلے کی واحد نمائندگی حلیم اللہ احمد زئی تھے۔

اسی بارے میں