امداد کی اپیل، صرف چھ فیصد ملا ہے:یو این

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ہیضہ، ملیریا، جلدی امراض اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں بارش اور سیلاب کے متاثرین کی امداد کے سرکاری ذخائر دس اکتوبر کو ختم ہوجائیں گے جبکہ متاثرین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی قریباً چھتیس کروڑ ڈالر کی درخواست کے جواب میں بھی صرف چھ فیصد حاصل ہو سکا ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے یو این او سی ایچ اے یا اوچھا سندھ کے سربراہ فواد احمد نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق متاثرین کی تعداد قریباً چوّن لاکھ چالیس ہزار ہے جبکہ حکومت پاکستان کے مطابق یہ تعداد اسی لاکھ کے قریب ہے۔

فواد احمد کا کہنا ہے کہ سندھ میں بارش کا پانی جگہ جگہ کھڑا ہونے سے صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔ لوگ اس پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ شہروں میں نکاسی آب کے نظام کی تباہی کی وجہ سے بارش کے اس پانی میں گندہ پانی مل گیا ہے اور یہ نکل نہیں پا رہا۔

پانی کی نکاسی کب اور کیسے؟

سیلاب: صورتحال تشویشناک، ڈبلیو ایچ او

سانگھڑ میں حالات سنگین

تین جگہوں، یعنی میر پور خاص، سانگھڑ اور بدین میں یہ پانی کافی مدت کھڑے رہنے کا خدشہ ہے۔ محکمہ ایریگیشن کے مطابق پانی نکلنے میں مزید ڈیڑھ ماہ لگے گا۔ اس وقت متاثرہ علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ صحت کا بن چکا ہے۔ جگہ جگہ جمع ہوجانے والے اس پانی سے ہیضہ، ملیریا، جلدی امراض اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

پینے کا پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگ یہی آلودہ پی بھی رہے ہیں اور مزید مشکلات میں گھرتے جا رہے ہیں۔ لیکن اس پانی کو ان علاقوں سے نکال دینا آسان نہیں۔

فواد احمد کے مطابق اب بھی پانی لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین یا ایل بی او ڈی میں آ رہا ہے، اب مختلف علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے سڑکیں توڑنا پڑیں گی۔ بہت بڑی تعداد میں پانی نکالنے کی مشینیں اور آلات درکار ہیں۔

انہوں نے سیاسی اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا کہ بعض جگہوں سے شکایات ملی ہیں کہ ایک زمین سے پانی نکال کر دوسری میں ڈال دیا گیا۔ اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر امدادی کام بھی متاثر ہوا۔

فواد احمد نے کہا کہ سانگھڑ جیسے کئی اضلاع میں صورتحال اس لیے ابتر ہو چکی ہے کہ مطلوبہ امداد نہ ہوسکنے کے بعد اب لوٹ مار شروع ہوگئی ہے۔ لوگوں نے جگہ جگہ سڑکوں پر رکاوٹ ڈال کر ہمارے امدادی ٹرک لوٹے۔ ایسے واقعات کے بعد اب حکام نے پولیس کے دو ایس پی افسران مقرر کیے ہیں جن کو پہلے بتا دیا جائے تو امدادی قافلوں کو پولیس کا تحفظ فراہم کردیا جاتا ہے۔

عالمی ادارے جن خدشات کی نشاندہی کر رہے ہیں حکام اور امدادی اداروں کی کوششوں کی بات اپنی جگہ مگر متاثرین کی تعداد اتنی زیادہ اور مسائل کا پیمانہ اس قدر بڑا ہے کہ اگر اسی رفتار اور اسی انداز سے کام ہوتا رہا، تو شاید سندھ بھر میں صورتحال آنے والے کئی ہفتوں تک بہتر نہ ہوسکے۔

اسی بارے میں