صومالیہ یا ترکی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بران کٹلیوس امریکہ کے نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز سے بھی منسلک رہے ہیں

امریکہ کے ترقی پسند دانشور بران کٹلیوس نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے معاملے پر پاکستان امریکہ تعلقات میں کشیدگی سیاسی تھیٹر سے کم نہیں، اس سے ہٹ کر اور بھی کئی سنجیدہ مسائل ہیں جن پر مل بیٹھ کر مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بران کٹلیوس امریکہ میں واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک سنٹر فار امریکن پراگرس میں سینیئر فیلو ہیں اور آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں۔

کراچی میں میڈیا کے ساتھ ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے بران کٹلیوس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پر حالیہ تنازعے کے باوجود امریکہ پاکستان اپنی دیرینہ دوستی ختم نہیں کریں گے اور مشترکہ مفادات کے لیے یہ دوستی جاری رہےگی۔

انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک پر پاکستان کا رد عمل حیران کن ہے وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان یہ احتجاج کرکے صرف اپنی قومی تشخص برقرار رکھنے چاہتا ہے۔

بران کٹلیوس کا دعویٰ تھا کہ حقانی نیٹ ورک کی سی آئی اے اور آئی ایس آئی دونوں حمایت کرتی رہی ہیں اور اس کے تاریخی تناظر کی تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کا خیال تھا کہ امریکہ پاکستان کو مضبوط اور ترقی پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے تاہم حقانی نیٹ ورک پر امریکہ کے بیان کا کچھ اور ہی پس منظر ہے۔ مگر پاکستان کے احتجاج سے لگتا ہے کہ اس کی دکھتی ہوئی نبض پر ہاتھ رکھا گیا ہے۔

’اس احتجاج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان بلواسط اس بات کو قبول کر رہا ہے کوئی تو مسئلہ ضرور ہے۔ لوگ اور میڈیا کچھ بھی کہیں مگر امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے مفادات کے لیے ساتھ رہیں گے۔‘

بران کٹلیوس ایسے دنوں میں پاکستان کے دورے پر ہیں جب امریکہ کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک پر کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان کو امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے، ترکی یاصومالیہ؟۔

بران کٹلیوس امریکی حکومت کی بعض پالیسیوں کے نقاد بھی ہیں، ان کے مطابق افغان جنگ میں امریکہ چاہے کچھ بھی کر لے مگر یہ جنگ پاکستان کے بغیر جیتنا مشکل ہے ۔

’ امریکہ کو اپنے شہریوں کی ٹیکس کے کئی بلین ڈالر افغان جنگ پر خرچ ہونے پر تشویش ہے، ایسی صورتحال میں جب امریکہ خود بیروزگاری اور کمزور معشیت کا سامنا کر رہا ہو، اس دوران ساڑھے چار سو بلین ڈالر افغانستان میں خرچ کیے جا رہے ہیں اب امریکہ افغانستان کو فتح کیئے بغیر ہی نکل جائے ایسا ممکن نہیں ہے۔‘

امریکہ کے اس ترقی پسند محقق اور دانشور کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ میں ہار کا مطلب ہے کہ خطے اور آس پاس کے علاقوں پر منفی اثرات جو امریکہ نہیں چاہتا۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکہ مکمل طور پر افغانستان سے نکل جائے گا، بقول ان کے صرف تیس ہزار اہلکاروں کا انخلا ہوگا جبکہ ستر ہزار وہاں ہی رہیں گے۔