جھڈو پھر کھڑا ہوگیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گذشتہ پیر ( چھبیس ستمبر) کو جب میرپور خاص کا دوسرا بڑا زرعی قصبہ جھڈو باقی دنیا سے قریباً ایک ماہ بعد جزوی طور پر دوبارہ جڑ گیا۔میں اور سندھی روزنامہ کاوش کے نمائندہ تھرپارکر کھاٹاؤ جانی پہلے غیر جھڈوی صحافی تھے جو نوکوٹ کی جانب سے لیفٹ بینک آوٹ فال ڈرین کے روشن آباد پل کے زریعے جھڈو پہنچنے میں کامیاب ہو سکے۔حالانکہ پل اس وقت بھی فٹ بھر چلتے پانی کے نیچے تھا۔

جھڈو بھی ان درجنوں قصبات میں شامل ہے جنہیں سرکاری اداروں نے کڑے وقت میں اپنے حال پر چھوڑ دیا۔تقریباً پینتالیس ہزار کی آبادی میں سے اسی فیصد لوگ پران ندی اور جمڑاؤ کینال میں شگاف پڑتے ہی بے مہار اونٹ کی طرح بھاگ پڑے۔کیا منظر تھا جب بارش و سیلاب زدہ نواحی دیہاتوں کے پانچ ہزار کے لگ بھگ لوگ جھڈو میں پناہ لینے کے لیے آ رہے تھے اور اہلِ جھڈو میرپور خاص، حیدرآباد اور کراچی کی جانب دوڑ رہے تھے۔

آپ بولو ہم کیا کریں!

کچھ نیا نہیں!

پورے قصبے میں سوائے ایک سکول اور ایک گلی کے ہر جانب چودہ روز تک دو سے پانچ فٹ پانی کھڑا رہا اور قصبہ چہار جانب سے ناقابلِ رسائی ہوگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سرکار کی نمائندگی کے لیے ایک سو پانچ سپاہیوں میں سے صرف نند لال ایس ایچ او اور اس کے چھ سات سپاہی پیچھے رہ گئے۔یوں پہلی دفعہ جھڈو کے قائم خانیوں اور حانزادوں کو احساس ہوا کہ پولیس میں بھی سفید بھیڑیں پائی جاتی ہیں۔نند لال اور اس کے فرض شناس سپاہیوں کے برعکس تحصیلی بلدیہ کا عملہ بھاگنے والوں میں شہریوں سے بھی آگے آگے تھا۔

وہ تو بھلا ہو نیوی اور جماعت الدعوہ کی انجمن فلاحِ انسانیت کی کشتیوں کا کہ جنہوں نے سینکڑوں عورتوں اور بچوں کو پانی اونچا ہوتے ہوتے ترجیحی بنیادوں پر جھڈو سے نکال کر خشک سڑک تک پہنچا دیا۔حالات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ قبرستان بھی پانی میں تیر رہا تھا اور اس دوران جو دو تین اموات (سیلاب سے نہیں) ہوئیں ان کا جنازہ بھی کشتیوں پر خشک جگہ تک پہنچانا پڑا۔

جو لوگ جھڈو سے نا نکل سکے ان کے لیے بارہ اگست کے بعد سے بحریہ کے علاوہ جماعتِ اسلامی، دعوتِ اسلامی اور انجمن فلاحِ انسانیت، طبی و خوراکی امداد کرتی رہیں۔کئی گمنام مخیر حضرات نے بھی شہریوں اور پناہ گزینوں کے لیے خشک راشن اور پکے پکائے کھانے کی سپلائی برقرار رکھی۔کہنے کو شہر میں سب سے زیادہ جھنڈے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرستوں کے پھڑ پھڑا رہے ہیں۔اس علاقے کے نمائندہ ِ قومی اسمبلی میر منور تالپور میرے جھڈو جانے سے دو روز پہلے سامانِ رسد کی دس ٹرالیاں لے کر پہنچے جن میں سے تین تو فوراً لٹ گئیں اور باقی پسپا ہوگئیں۔

مگر باقی قصبات کے برعکس جھڈو کے شہری اس آبی مصیبت کے لیے نا تو اللہ میاں کو الزام دیتے ہیں نا ہی حکومت کو ۔بلکہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مصیبت انہوں نے خود مول لی۔کچھ شہری میرا ہاتھ پکڑ کر اس جگہ تک لے گئے جہاں پران ندی بہہ رہی ہے۔جس جگہ اس ندی کی چوڑائی کم از کم تین سو فٹ ہونی چاہیے وہاں وہ بارہ فٹ چوڑائی میں بہہ رہی تھی۔شہریوں نے آرپار چودہ فٹ کے دو آہنی گارڈرز ڈالے ہوئے ہیں جنہیں پل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔اگر آپ گارڈر کے اس طرف ہیں تو ضلع میرپور خاص میں ہیں۔گارڈر پار کرلیا تو ضلع بدین میں ہیں۔ ہے نا مزے دار بات !

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

میں نے بے شمار مقامات پر یہ تو دیکھا ہے کہ سرکاری و نجی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے کے لیے مسجد بنا دی گئی۔لیکن جھڈو میں پہلی دفعہ یہ بھی دیکھ لیا کہ کس طرح ندی ہتھیانے کے لیے خدا کو ملوث کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا اور خانہِ خدا کو آدھی ندی تک بڑھا کر اس کے سائے میں دائیں بائیں حرام کی دوکانیں حلال کرنےکی کوشش کی گئی۔جب اہلِ جھڈو اپنے تئیں پران ندی کا گلا گھونٹنے میں کامیاب ہوگئے تب ندی نے پتھرائی آنکھوں سے آسمان کی جانب دیکھا۔آسمان نے بارش کی کمک نازل کردی اور پران نے دیوار سے لگی محصور بلی کی طرح جھڈو کی گردن میں پنجے گاڑ دیے۔پانی دوکانوں کو ملیامیٹ کرتے ہوئے شہر میں داخل ہوگیا۔باقی کسر ایل بی او ڈی اور مٹھراؤ نہر کے شگافوں نے پوری کردی۔

گو پران کے کنارے سے زرا دور بہادر فقیر کی درگاہ زیرِ آب ہے البتہ ندی میں کھڑی مسجد آج بھی کھڑی مسکرا رہی ہے اور دوسرے کنارے پر پانی کے اندر تک اتری ہوئی اریگیشن کی عمارت اور ایس ڈی او نیاز میمن کا بنگلہ جوں کا توں کھڑا ہے۔ثابت یہ ہوا کہ پانی جتنا بھی دیوانہ ہوجائے کارخانہ ِ خدا و کارِ سرکار میں مداخلت نہیں کرتا۔

آج اگر آپ جھڈو جائیں تو ایک دو محلوں کے سوا کہیں پانی دکھائی نہیں دے گا۔شہر میں بلدیہ کے نکاسی پمپوں نے کام شروع کر دیا ہے۔البتہ پینے کے صاف پانی کا سنگین مسئلہ برقرار ہے۔لہذا صاحبِ استطاعت مصیبت زدگان بوتل بند منرل واٹر اور صاحبانِ غربت خون کے گھونٹ پی رہے ہیں۔کنبے رفتہ رفتہ گھروں کو واپس آ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے بند کھوکھوں کی جھاڑ صفائی شروع کر دی ہے کیونکہ امداد کی وصولی و تقسیم کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں