بلوچستان کے مسئلے پر کل جماعتی کانفرنس

بلوچستان فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان کی صورتِ حال گمبھیر ہے:افراسیاب خٹک

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کے سربراہ افراسیاب خٹک نے وزیرِاعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو ایک خط لکھ کر بلوچستان کے مسئلے پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کی درخواست کی ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس بارے میں خط لکھنے کا فیصلہ جمعے کو ان کی سربراہی میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا اور اگلے ہی دن وزیرِاعظم کو یہ خط بھیج دیا گیا تھا۔

افراسیاب خٹک کا کہنا تھا ’بلوچستان کی صورتِ حال گمبھیر ہے، جس طرح سے وہاں لاشیں مل رہی ہیں، خوریزی اور ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ پوری پاکستانی قوم اور پورا ملک بلوچستان پر یکسوئی سے توجہ دے تاکہ بلوچستان رستا ہوا زخم یا ناسور نہ بن جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سیاسی لوگ قتل ہوئے ہیں، ایک خاص فرقے کے لوگوں کو مارا گیا ہے اور مختلف پیشہ ور لوگوں کو بھی قتل کیا گیا ہے۔

’اب تک تقریباً سو سے زیادہ سیاسی کارکن مارے گئے ہیں اور بے شمار عام لوگ ہلاک ہوچکےہیں۔ روزانہ وارداتیں، دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی تدبیر بھی نہیں کی گئی اس لیے پارلیمان میں ایوانِ بالا کی انسانی حقوق کی کمیٹی کو تشویش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا راستہ روکے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

افراسیاب خٹک نے پاکستان کی مرکزی حکومت کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

’تشویش کی بات یہ ہے کہ حکومت بے بس نظر آتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سارے قتل کے واقعات ایسے ہیں جو کسی عام آدمی کا کام نہیں ہے، ان میں ایسے لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جن پر ہاتھ ڈالتے ہوئے حکومت بھی گھبراتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد اسلیے اہم ہے کہ ایک قومی فیصلہ آئے اور اس کے بعد طاقتور افراد کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہوسکے گی۔

انھوں نے کہا بلوچستان میں ہونے والی ہلاکتوں کا الزام فریقین ایک دوسرے پر لگارہے ہیں۔

’حکومتی حلقے بلوچ جن کو وہ علحیدگی پسند کہتے ہیں ان پر الزام لگاتی ہے، فرقہ وارانہ وارداتوں کی بعض اوقات فرقہ وارانہ تنظیمیں ذمہ داری قبول کرتی ہیں جبکہ سیاسی کارکنوں کی قتل کا الزام بلوچ قوم پرستیں سرکاری ایجنسیوں پر لگاتے ہیں۔‘

افراسیاب خٹک نے کہا کہ اگر کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں کوئی با اختیار کمیشن بن جایے تو وہ ان تمام الزامات کی چھان بین کرسکے گا اور ذمہ داری کا تعین کرسکے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا اتنا گمبھیرمسلہ ہے کہ ایک جماعت اس کا حل نہیں نکال سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کل جماعتی کانفرنس کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز بلوچستان کی صورت حال کی بہتری کے لیے دی گئی ہے۔

پاکستان کی ایوان بالا میں انسانی حقوق کی کمیٹی کے سربراہ افرسیاب خٹک نے یہ تجویز بھی دی کہ بلوچستان کی قوم پرست تنظیموں سے بات چیت کی جائے۔

’اگر ہم اپنے ملک میں سب لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں بشمول ان لوگوں کے جن پر دہشت گردی کے الزامات ہیں تو بلوچ قوم پرستوں کو اس سے کیسے باہر رکھ سکتے ہیں اسلیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سے بھی بات چیت کی جائے۔‘

اسی بارے میں