لوڈ شیڈنگ کے خلاف پرتشدد مظاہرے

Image caption پاکستان میں گزشتہ چند روز سے بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے

پاکستان کے مختلف شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران کئی مقامات پر بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے دفاتر پر شہریوں نے حملے کیے جبکہ ٹائر جلا کر مختلف سڑکوں پر ٹریفک بلاک کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہرگوجرانوالہ اورگجرات میں مشتعل مظاہرین نے بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

دونوں شہروں میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ کی ہے جبکہ پولیس نے مقدمات درج کر کے درجنوں شہریوں کوگرفتار بھی کیا۔

گوجرانوانہ میں مظاہرین نے ٹرینوں کو روک دیا اور ایک پٹرول پمپ اور ریسکیو کی سرکاری ایمبولینس سمیت متعدد گاڑیوں کو نذرآتش کیا جب کہ دو بینکوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

اس سے علاوہ فیصل آباد میں تاجر تنظیموں کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی اور جڑانوالہ روڈ بلاک کی گئی۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور سے اسلام آباد تک جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ ٹائر جلائے گئے جس سے دونوں شہروں کے درمیان چلنے والی ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی۔

Image caption مظاہرین نے احتجاج کے دوران ٹائر جلا کر سڑکوں کو بند بھی کیے رکھا

للۂ انٹرچینج پر موٹروے پر گھنٹوں ٹریفک بلاک کی گئی اور جہلم میں ڈی سی او کے دفتر کا گھیراؤ کیا گیا۔

سیالکوٹ میں گرڈ سٹیشن کا گھیراؤ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی اور بورے والا، اوکاڑہ میں بھی تاجروں نے ہڑتال کی اور شہریوں نے جلوس نکالے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے انہیں اٹھارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرہ ہوئے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی نے غیر اعلانیہ لوڈشینڈنگ کے خاتمے کے لیے ایک ریلی بھی نکالی۔

مسلم لیگ نون کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کی یہ ریلی لاہور کے علاقے لوہاری گیٹ سے شروع ہوئی۔ اس ریلی کی قیادت وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کی۔

بازؤں پر سیاہ پیٹیاں باندھے ریلی میں شامل مظاہرین نے جو کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے ان پر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے علاوہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف بھی نعرے اور عبارتیں درج تھیں

احتجاج میں شامل ارکان اسمبلی سمیت دیگر افراد نے اپنے احتجاج کے دوران لوڈشیڈنگ کے بجائے صدر آصف علی زرداری کے خلاف نعرے لگائے۔

ارکان اسمبلی کی یہ ریلی شاہ عالم مارکیٹ کے قریب پہنچ کر ختم ہوئی جہاں رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے خطاب کیا اور صدر آصف علی زرداری پر تنقید کی۔

حمزہ شبہاز نے خبردار کیا کہ اگر لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا گیا تو مسلم لیگ نون لانگ مارچ کرے گی۔

ادھر لاہور میں تاجروں نے بھی بجلی کی لوڈشڈنگ کے خلاف مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر تاجر رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا تو وہ مارکیٹ بند کر دیں۔

شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج کی وجہ سے لاہور میں ٹریفک کا نظام معطل ہو کر رہ گیا۔

لاہورمیں صنعتکار رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صوبے بھر میں اسی فی صد صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

کراچی، میرپور اور خیبر پختونخوا

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میر پور میں احتجاجی مظاہرہ ہوا جبکہ خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد کے شہریوں نے شاہراہ قراقرم بند کر دی۔

پشاور سے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور سمیت مختلف شہروں میں سولہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور کاروبار کے علاوہ شہریوں کو تکلیف کا سامنا ہے۔

کراچی میں ٹیکسٹائل ملز مالکان نے دھمکی دی ہے کہ اگر تین روز کے اندر بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو وہ بجلی کے بل دینا بند کر دیں گے۔

اسلام آباد میں میاں نواز شریف نے ایک پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوں۔

بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیپکو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کو سات ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے اور بجلی کا شارٹ فال بڑھنے کی وجہ ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی بھی ہے۔

اسی بارے میں