’پاکستان سے مذاکرات نہیں ہورہے ہیں‘

Image caption پاکستان پڑوسی ملک میں ’دوغلی‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے: مولوی فقیر محمد

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ان کے پاکستان کے ساتھ نہ کسی قسم کے مذاکرات ہورہے ہیں اور نہ ہی آئندہ اس بارے میں اب تک کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ اگر موجودہ حالات میں امریکہ نے پاکستان پر حملہ کیا تو وہ آنکھ بند کر کے پاکستان کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ وہ اس بات کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں گے۔

تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ ایجنسی میں تحریک طالبان کے کمانڈر مولوی فقیر محمد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ پاکستان خود مختار مُلک نہیں ہے اور اس کی حیثیت ایک غلام مُلک کی ہے، اس صورت میں ہر قسم کے مذاکرات بے معنی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کا مذاکرات کے سلسلے میں نہ کسی سے رابط تھا نہ ہے اور ہوگا۔

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولوی فقیر محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان پڑوسی ملک میں ’دوغلی‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس سے وہاں حالات میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس سوچ کو وسعت نہیں دی جاتی کہ پڑوسیوں سے امن کے ساتھ رہا جائے اس وقت تک دونوں ممالک میں حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

نائب امیر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اسلامی ممالک سے اپنی افواج نکال لے اور قبائلی علاقوں میں ڈرون کاروائیاں بند کردے تو ان کے خلاف حملے کم ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے کہا تھا کہ پاکستان پر امریکہ کے حملے کی صورت میں وہ پاکستان کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ امریکہ کی نسبت انہیں پاکستان کے ہاتھوں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں