لوڈ شیڈنگ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر

Image caption بجلی کا بحران پورے ملک میں سنگین شکل اختیار کرگیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں تین سال پہلے دھماکوں اور خودکش حملوں کے باعث حالات اتنے خراب تھے کہ لوگ خوف کی وجہ سے اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے تھے جبکہ آج دھماکے اور خوف تو نہیں البتہ بجلی کی بندش اور لوشیڈنگ اتنی زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

خیبر پختون خوا کے مختلف شہروں میں گزشتہ ایک ہفتہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

واپڈا حکام کے مطابق دیہات میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے جبکہ شہروں میں بارہ سے چودہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔

ان سات آٹھ دنوں میں دو مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ بعض شہری بجلی کی بدترین لوڈ شیٹنگ کی وجہ سے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکے۔ اس کے علاوہ گھروں میں بوڑھے ،خواتین ، بچے اور معزور افراد بھی انتہائی مشکل کا شکار ہیں۔

پاکستان میں ویسے تو توانائی کا بحران چند سالوں سے چلا آ رہا ہے لیکن گزشتہ چند دنوں سے یہ پورے ملک میں سنگین شکل اختیار کرگیا ہے۔

پاکستان میں شاہد ہی کوئی ایسا شہر ہوگا جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج نہ ہوا ہو اوراب تو یہ احتجاج تشدد کی شکل اختیار کررہا ہے۔ لوگوں کے رویے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس پر فوری طورپر قابو نہ پایا گیا تو حالات اس سے بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔

پشاور میں اس سے پہلے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی لیکن ایک تو اس کا دورانیہ کم ہوتا تھا اور دوسری بات یہ تھی کہ اگر ایک گھنٹہ کے لیے بجلی بند رہتی تھی تو پھر تین چار گھنٹے لوگوں کو بجلی ملتی بھی تھی۔

لوگ یو پی ایس یا جنریٹر سے کام چلا لیا کرتے تھے لیکن اب تو حالات اس لیے بھی زیادہ سنگین ہوگئے ہیں کیونکہ یو پی ایس کو چارج کرنے کےلیے بھی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر چار سے پانچ گھنٹے مسلسل بجلی بند رہے تو پھر یو پی ایس بی بھی کام نہیں کرتا اس لئے اب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔

خیبر پختون خوا کے عوام کی شاید بدقسمتی یہ ہے کہ اس صوبہ میں جس پارٹی کی سیاست کا محور ہی یہاں کے پانی کے وسائل اور بجلی تھی یا جس پر وہ اپنی ’سیاسی دوکان‘ چمکایا کرتی تھی، آج وہی پارٹی حکمران ہے اور ان ہی کی حکومت میں عوام سب سے بدترین بجلی بحران سے گزر رہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما جب اقتدار میں نہیں تھے تو وہ لوگوں کو سو یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کے دعوے کرتے تھے لیکن آج حال یہ ہے کہ مفت بجلی تو دور کی بات ابھی تک وہ مرکزی حکومت سے لوڈشیڈنگ پر موثر بات نہیں کرسکے ہیں۔

پشاور میں بجلی کا بحران بڑھنے کے ساتھ ساتھ موبائل فونز پر حکومت اور واپڈا کے خلاف پیغامات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور لوگ ایس ایم ایس کے ذریعے مغلظات اور بددعاؤں کی شکل میں اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ ایسے پیغامات ہیں جن میں لوگ وزیرِاعظم، صدر اور واپڈا حکام کو اپنی برہمی کا نشانہ بناتے ہیں۔

اکثر افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ بجلی کا بحران حکومت کا خود پیدا کردہ ہے جس کا مقصد لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے اور ان کے مورال کو پست کرنا ہے تاکہ وہ سکون سے نہ رہے اور انھیں حکومت کے خلاف سوچنے کا موقع نہ ملے۔

اسی بارے میں