پانی میں گھرے لوگ پانی کی قلت کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سندھ میں سیلاب اور بارش کے پانی میں گھیرے ہوئے ہزاروں لوگ پینے کے صاف پانی کو ترس گئے ہیں۔ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیم نالوں میں شگاف پڑنے سے شہروں کو پانی فراہم کرنے کے تالابوں میں موجود ذخیرہ کیا ہوا پانی آلودہ ہوگیا ہے، جو اب قابل استعمال نہیں رہا۔

دوسری جانب متاثرہ علاقوں کی نہروں میں بھی بارش اور سیلاب کے پانی کی نکاسی کی جا رہی ہے۔ میرپورخاص میں سڑک پر خیمے میں موجود ارجن کوہلی نے بتایا کہ پہلے وہ ان نہروں سے پینے کا پانی حاصل کر لیتے تھے مگر اب ایسا نہیں کر سکتے اور اس لیے انھیں کئی میل دور ہینڈ پمپ سے پانی بھرنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔

مقامی اخبارات میں روزانہ آلودہ پانی اور ناقص خوراک کے استعمال سے متاثرین کی ہلاکتوں کی خبریں شائع ہوتی ہیں، صوبائی محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل حفیظ الحق میمن تسلیم کرتے ہیں کہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بقول ان کے انہوں نے تعلقہ میونسپل ایڈمنسٹریشن کو اقدامات اٹھانے کے لیے کہا ہے، اس کے علاوہ متاثرین کو پانی صاف کرنے کی گولیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم غیر سرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ واٹر سپلائی کا پانی اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ اس کی صفائی ممکن نہیں رہی۔

ادھر سانگھڑ اور تھر میں کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کے مطابق زیر زمین پانی کھارا ہے جو قابل استعمال نہیں ہے، جس کے باعث ٹینکروں کی مدد سے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

برطانوی مسلمانوں کی تنظیم مسلم ایڈز سانگھڑ میں صحت اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں کام کر رہی ہے، تنظیم کے صوبائی کوآرڈینیٹر غلام رسول فاروقی نے بتایا کہ انہوں نے مختلف علاقوں میں چار فلٹر پلانٹ نصب کیے ہیں اور اب ایسی جگہ کی تلاش کی جا رہی ہے جہاں ہینڈ پمپ لگائے جائیں کیونکہ زیر زمین پانی کھارا ہے۔

ان کے مطابق انہیں پانی کی صفائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ واٹر سپلائی کے تالابوں میں جو پانی کھڑا ہے اسے فنگس لگ گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کی صفائی ممکن نہیں۔

سندھ کے صحرائی علاقہ تھرپارکر بھی حالیہ بارشوں سے متاثر ہوا ہے، اس علاقے میں لوگوں کے گزر اوقات کا دارو مدار بارش پر ہی ہوتا ہے مگر بارشوں کے بعد پینے کے پانی کے تالاب آلودہ ہوچکے ہیں، صرف ننگر پارکر میں ایک درجن کے قریب لوگوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

ماحول کے تحفظ اور بقاء کے لیے کام کرنے والے ادارے سوسائٹی فار کنزرویشن اینڈ پروٹکشن آف انوائرمنٹ کی جانب سے متاثرین کو بائیو سینڈ فلٹر فراہم کیے جا رہے ہیں۔

تنظیم کے اہلکار بھارو مل کا کہنا ہے کہ تالابوں کا پانی استعمال کرنے سے لوگ بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، سرکاری طور پر صاف پانی کی فراہمی نظر نہیں آرہی ہے، اس لیے انہوں نے بائیو سینڈ فلٹر فراہم کیے ہیں۔

’ یہ سیمنٹ کے پائپ سے بنے ہوئے ہوتے ہیں جس میں تین قسم کی ریت استعمال کی جاتی ہے اس پر بائیولیر تہہ ہوتی ہے، جو پانی صاف کرتی، اس کی مدد سے ایک گھنٹے میں دس لیٹر پانی صاف کیا جاسکتا ہے۔‘

صوبائی وزیر آفات اور بحالی مظفر شجراہ کا کہنا ہے کہ پانی کی صفائی کے لیے سو کے قریب ریورس اوسموس پلانٹس حاصل کیے جا رہے ہیں جن میں سے پچیس آگئے ہیں جو نصب کر لیے گئے ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان ریورس اوسموس پلانٹس کی گنجائش کتنی ہوگی۔

محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں دو سے ڈہائی ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے، تب تک متاثرین کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے لیے ایک چیلنج رہے گا۔

اسی بارے میں