باجوڑ: مغوی لڑکے اب بھی طالبان کے پاس

طالبان فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قبائلی رہنماء اور مقامی انتظامیہ نے مغوی لڑکوں کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے اغوا کیےگئے لڑکوں کو ایک ماہ سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا جبکہ تحریک طالبان کے نائب امیر مولوی فقیر نے کہا ہے کہ مغوی لڑکے ان کے پاس مجاہدین کے ماحول میں ہیں۔

باجوڑ ایجنسی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ مغوی لڑکوں کی بازیابی کے لیے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ قبائلی رہنماء اور مقامی انتظامیہ اس بارے میں خاموش ہے جبکہ مغوی لڑکوں کے والدین سخت پریشان ہیں۔

لوگوں نے کہا کہ اب نہ کو ئی اس بارے جرگے ہو رہے ہیں اور نہ ہی کوئی رابطے کیےگئے ہیں تاکہ لڑکوں کو بازیاب کرایا جا سکے ۔

یرغمال بچے: ’فیصلہ باجوڑ کی مرکزی شوریٰ کرے گی‘

’غلطی سے سرحد عبور، طالبان نے تیس بچے یرغمال بنا لیے‘

اس بارے میں باجوڑ ایجنسی کے قبائلی رہنما ملک سلطان زیب اور ملک ایاز سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ ملک سلطان زیب نے لڑکوں کے اغوا کے ایک ہفتے بعد بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے رابطے طالبان اور افغانستان میں ماموند قبائل کے رہنماؤں سے ہوئے ہیں اور جلد لڑکوں کا بازیاب کرا لیا جائے گا لیکن ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود لڑکے بازیاب نہیں کرائے جا سکے۔

اس سلسلے میں تحریک طالبان کے نائب امیر مولوی فقیر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑکے خیریت سے ہیں اور مجاہدین کے ماحول میں ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مغوی لڑکوں کے والدین یہ تاثر دے رہے ہیں کہ افغانستان میں کنڑ صوبے کی مقامی انتظامیہ مسائل پیدا کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ باجوڑ سے سرحد پار جانا انتہائی خطرناک ہے اس لیے قبائلی سطح پر کوئی رابطے نہیں ہو پا رہے۔

باجوڑ ایجنسی کے دو درجن سے زیادہ لڑکوں کو عید کے روز مشتبہ طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ پکنک منانے پاک افغان سرحد پر گئے تھے۔

تحریک طالبان نے ان لڑکوں کے اغوا کی زمہ داری قبول کی تھی اور مشاورت کے بعد لڑکوں کی بازیابی کےلیے شرائط پیش کی تھیں جن میں گرفتار شدت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور مقامی لوگوں سے کہا تھا کہ وہ حکومت کےحمایت سے بننے والے لشکروں سے لاتعلقی کا اعلان کریں۔

اسی بارے میں