طالبان سے مذاکرات کی قانونی حیثیت

  • رفعت اللہ اورکزئی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
تحریک طالبان پاکستان حکومت پاکستان کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے
،تصویر کا کیپشن

تحریک طالبان پاکستان حکومت پاکستان کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے

اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر طالبان تنظیموں سےمذاکراتی عمل شروع کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے بات چیت کیسے ممکن ہے۔

پاکستان میں اس وقت طالبان کی تین بڑی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سرگرم ملا نذیر اور حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کو’گڈ طالبان‘ سمجھا جاتا ہے۔حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ پاکستان میں کسی کارروائی میں ملوث نہیں ہیں اور ملک کے اندر ہونے والی خودکش یا دیگر حملوں کے نہ صرف مخالف ہیں بلکہ ان کو غیر اسلامی اور غیر شرعی بھی قرار دیتے ہیں۔ ان گروہوں کے ساتھ حکومت کے ساتھ پہلے سے امن معاہدے موجود ہیں۔

لیکن تحریک طالبان پاکستان حکومت پاکستان کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ اس تنظیم کو موجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے دہشت گرد قرار دے کر اس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی تھی۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس تنظیم کو خود حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے اور اسے ہزاروں لوگوں کی موت کا ذمہ دار بھی سمجھتی ہے، ایسی تنظیم سے بات چیت کا عمل کیسے شروع کیا جاسکتا ہے۔؟

ممتاز قانون دان قاضی محمد انور ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ قانونی اور آئینی طورپر ’دہشت گرد‘ سے کسی بھی صورت میں مذاکرات نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ تو ہے ہی قانون شکن۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے کیا مذاکرات ہونگے یہی کہ ان کے خلاف جو مقدمات عدالتوں میں دائر ہیں ان کو ختم کیا جائے اور ان کے جیلوں میں بند ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔

قاضی انور کے مطابق ’ انھیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت نے طالبان سے بات چیت کی بات کیوں کی ہے۔‘

لیکن دوسری طرف تحریک طالبان نے اپنے ایک تازہ بیان میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ ان کے حکومت پاکستان سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

تحریک کے نائب امیر مولوی فقیر محمد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک ’غلام‘ کی ہے اس لئے اس سے بات چیت کا عمل بے معنی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کی بات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سکیورٹی فورسز نے کچھ عرصہ سے خصوصی طورپر تحریک طالبان کے خلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرکے اسے تنہا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس تنظیم پر حکومت کی جانب سے طرح طرح کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

بعض حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم کے بعض دھڑوں کو اب مبینہ طورپر افغان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دھڑے باجوڑ طالبان کے کمانڈر مولوی محمد فقیر، مہمند ایجنسی کے طالبان سربراہ عمر خالد اور سوات طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے حامیوں پر مشتمل ہیں۔

اس کےلیے دلیل یہ دی جاتی رہی ہے کہ یہ کمانڈر اور ان کے حامیوں نے افغانستان کے سرحدی علاقوں کنڑ اور نورستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود بھی ابھی تک امریکہ یا افغان حکومت کی طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ کچھ عرصہ سے سرحد پار سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کےلیے انہی طالبان دھڑوں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم طالبان وقتاً فوقتاً امریکہ یا افغان حکومت سے اپنے تعلق کے حوالے سے الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔ چند دن قبل کمانڈر عمر خالد کے ترجمان مکرم خراسانی نے تحریک طالبان کے بعض کمانڈروں میں اختلافات کی خبروں کی نہ صرف تردید کی تھی بلکہ یہ اعلان بھی کیا تھا کہ تمام دھڑے تحریک طالبان کے چھتری تلے حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں متحد ہیں۔