کرکٹ کی سٹے بازی میں ہوش ربُا رقمیں لگتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ PA

کرکٹ کے دو پاکستان کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کے خلاف ’سپاٹ فکسنگ‘ کے مقدمے سے بین الاقوامی کرکٹ میں وسیع پیمانے پر پائی جانے والی بدعنوانی اور کرپشن کی عکاسی ہوتی ہے۔

استغاثہ کے وکیل آفتاب جعفری کیو سی نے یہ کلمات چھبیس سالہ سلمان بٹ اور اٹھائیس سالہ محمد آصف کے خلاف لندن میں مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے دلائل دیتے ہوئے کہے۔

پاکستان کے دونوں کھلاڑی سابق کپتان سلمان بٹ اور تیز رفتار بالر محمد آصف لارڈز ٹیسٹ کے دوران سپاٹ فکسنگ کرنے کے الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔

ایک برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے سلمان بٹ، محمد آصف اور نوجوان کھلاڑی محمد عامر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر پہلے سے متعین اوورز میں نو بال پھینکے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی تھی۔

ساؤتھ وارک کی کراؤن کورٹ میں آفتاب جعفری نے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے برطانیہ میں مقیم ایجنٹ مظہر مجید کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں میچوں کے کچھ حصوں کے بارے میں طے کیا تھا ان میں کیا کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان چاروں اشخاص نے لالچ میں آ کر ایک ایسے میچ کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے جس کو لاکھوں شائقین دیکھ رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ سٹے بازی کے دھندے میں ہوشا ربا پیسہ کمایا جاتا ہے۔

یہ الزامات نیوز آف دی ورلڈ اخبار جو کہ اب بند ہو گیا ہے اس کے رپورٹر مظہر محمود کی ایک خبر میں لگائے گئے تھے۔

عدالت میں کہا گیا کہ اس اخبار نویس کو جو اپنی شناخت چھپا کر کام کر رہا تھا اطلاعات ملیں کہ مظہر مجید میچ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔ اس خیال سے کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ کرکٹ کے کھیل کے لیے بہت اہم ہیں اور ان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیں۔

بھارت کے ایک رئیس محسن خان کا روپ دھار کر مظہر محمود میچ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث مظہر مجید سے ملے اور متحدہ عرب امارات میں ایک ٹورنامنٹ کرانے کے امکانات پر بات کی۔

جیوری کو بتایا گیا کہ اس ملاقات میں انھوں نے میچ فکسنگ کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ اگر تین کھلاڑی تیار ہو جائیں تو یہ ممکن ہے۔

مظہر مجید نے مبینہ طور پر مظہر محمود کو بتایا ’باس میرے پاس پہلے ہی سے چھ کھلاڑی ہیں۔‘

ایک علیحدہ ملاقات میں رپورٹر نے مظہر مجید کو دس ہزار پاونڈ دینے کی حامی بھر لی جس کے عوض میچ کے دوران نو بال پھینکنا تھیں اور اس کا مقصد مظہر مجید کی صلاحیت اور اثر و رسوخ کا امتحان درکا تھا۔

یہ مقدمہ گزشتہ سال چھبیس اور انتیس اگست کو پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان لارڈز کرکٹ گروانڈ پر کھیلے جانے والے کرکٹ ٹیسٹ میچ سے متعلق ہے۔

ان چاروں اشخاص پر سپاٹ فکسنگ کا الزام ہے لیکن میچ کے نتیجے کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ برضغیر میں جواری اور سٹہ باز میچ کے نتیجے سے لے کر ہر ہر بات پر شرطیں لگاتے ہیں۔

آفتاب جعفری نے کہا کہ مبئی میں ٹوئنی ٹوئنٹی میچ پر مجموعی طور پر بیس کروڑ ڈالر کی رقم بھی لگائی جاسکتی ہے۔

آفتاب جعفری نے کہا کہ سلمان بٹ اور مظہر مجید اس ساری سازش کے مرکزی کردار ہیں لیکن یہ دونوں اشخاص بغیر محمد آصف اور محمد عامر کی شمولیت کے یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔

آفتاب جعفری نے سلمان بٹ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والے معاہدے کا ایک حصہ بھی پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی بھی کھلاڑی سے کوئی آدمی میچ فکسنگ کے مقصد سے رابطہ کرتا ہے تو کپتان اور مینیجر فوری طور پر بورڈ کو اطلاع دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کپتان خود ہی ملوث ہو تو پھر اس کا امکان نہیں رہتا۔

جوری کو بتایا گیا کہ سلمان بٹ اور محمد آصف پر مقدمہ چل رہا لیکن مظہر مجید اور محمد عامر کی عدم موجودگی کے پیچھے کوئی چال نہیں ہے۔ مقدمے کی سماعت ابھی جاری ہے۔

.

اسی بارے میں